تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 313

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۳۱۳ سورة القمر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القمر بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ دو، اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَ إِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرُ مُسْتَمِر وَكَذَبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِر ) عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر بھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اُس کا نام ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال کہلاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۳) شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھہرایا گیا ہو بلکہ ہزار ہا شواہد اندرونی و بیرونی وصد با معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کر کے فرض بھی کر لیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی اگر کچھ حرج ہے تو شاید ایسا ہے کہ جیسے ہمیں کروڑ روپیہ کی جائیداد میں سے ایک پیسے کا نقصان ہو جائے۔پس اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اگر بفرض محال اہلِ اسلام تاریخی طور پر اس معجزہ کو ثابت نہ کر سکیں تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بداثر نہیں پہنچ سکتا۔سچ تو یہ ہے کہ کلام الہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلی بے نیاز کر دیا