تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 312
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۲ سورة النجم کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا کی راہ میں قربان ہو گئے جب جا کر کہیں ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا تھا۔اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مار کر ان کو وہ درجات دلا دیئے جاویں اور عرش تک ان کی رسائی ہو جاوے۔ہمارے رسول اکرم سے بڑھ کر کون ہوگا وہ افضل البشر افضل الرسل والانبیاء تھے جب انہوں نے ہی پھونک سے وہ کام نہیں کئے تو اور کون ہے جو ایسا کر سکے۔دیکھو آپ نے غارحرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے۔خدا جانے کتنی مدت تک تضرعات اور گریہ وزاری کیا گئے۔تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کئے جب جا کر کہیں خدا کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۱٫۲ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۱) اگر چہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کے فضل سے ہی ہوتا ہے مگر کوشش کرنا انسان کا فرض ہے جیسا کہ قرآن شریف نے صراحت سے حکم دیا ہے کہ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ الا ما سعی یعنی انسان جتنی جتنی کوشش کرے گا اسی کے فیوض الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۱) سے مستفیض ہو سکے گا۔وَ انَّ إلى رَبَّكَ الْمُنْتَهى تمام سلسله علل و معلولات کا تیرے رب پر ختم ہو جاتا ہے۔تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ نظر عمق سے معلوم ہوگا کہ یہ تمام موجودات علل و معلول کے سلسلہ سے مربوط ہے۔اسی وجہ سے دنیا میں طرح طرح کے علوم پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ کوئی حصہ مخلوقات کا نظام سے باہر نہیں۔بعض بعض کے لئے بطور اصول اور بعض بطور فروع کے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ علت یا تو خود اپنی ذات سے قائم ہوگی یا اس کا وجود کسی دوسری علت کے وجود پر منحصر ہو گا۔اور پھر یہ دوسری علت کسی اور علت پر، وعلی ہذا القیاس۔اور یہ تو جائز نہیں کہ اس محدود دنیا میں علل و معلول کا سلسلہ کہیں جا کر ختم نہ ہو اور غیر متناہی ہو۔تو بالضرورت ماننا پڑا کہ یہ سلسلہ ضرور کسی اخیر علت پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔پس جس پر اس تمام سلسلہ کا انتہاء ہے وہی خدا ہے۔آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ آیت و آن إلى رَبِّكَ المُنتهی اپنے مختصر لفظوں میں کس طرح اس دلیل مذکورہ بالا کو بیان فرما رہی ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ انتہاء تمام سلسلہ کی تیرے رب تک ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۹)