تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۱ سورة النجم سلسلہ نہیں ہے کہ پھونک مار کر کچھ حاصل ہو جائے یا بدوں سعی اور مجاہدہ کے کوئی کامیابی مل سکے۔دیکھو۔آپ شہر سے چلے تو اسٹیشن پر پہنچے۔اگر شہر سے ہی نہ چلتے تو کیوں کر پہنچتے۔پاؤں کو حرکت دینی پڑی ہے یا نہیں؟ اسی طرح سے جس قدر کاروبار دنیا کے ہیں سب میں اول انسان کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔جب وہ ہاتھ پاؤں ہلاتا یا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت ڈال دیتا ہے۔اسی طرح پر خدا تعالی کی راہ میں وہی لوگ کمال حاصل کرتے ہیں جو مجاہدہ کرتے ہیں۔اسی لئے فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت :٧٠) پس کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مجاہدہ ہی کامیابیوں کی راہ ہے۔( الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخه ۱۰ تا۷ارنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۳) دعا جب کام کرتی ہے جب انسان کی کوشش بھی ساتھ ہو۔بعض لوگ جانتے ہیں کہ پھونک مار کر ولی بنا دیا جاوے وہ یہ نہیں جانتے کہ پھونک بھی اس آدمی کو لگتی ہے جو نزدیک آوے۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ بغیر انسان کی سعی کے کچھ ہو جاوے قرآن شریف میں ہے لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی اور دل کی ہر ایک حالت کے لئے ایک ظاہری عمل کا نشان ضرور ہوتا ہے۔جب دل پر غم کا غلبہ ہو تو آنسو نکل آتے ہیں۔اسی لئے شریعت نے ثبوت کا مدار ایک شہادت پر نہیں رکھا جب تک دوسرا گواہ بھی نہ ہو۔پس جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو تب تک کچھ نہیں بنتا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه یکم و ۸ /نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۱۰) انسان کے لئے سعی اور مجاہدہ ضروری چیز ہے اور اس کے ساتھ مصائب اور مشکلات بھی ضروری ہیں۔لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعى جو لوگ سعی کرتے ہیں وہ اس کے ثمرات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اسی طرح پر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور نفس کی قربانی کرتے ہیں ان پر الہی قرب وانوار و برکات اور قبولیت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور بہشت کا نقشہ ان پر کھولا جاتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه (۴) ایک طرف تو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم، رحم ، لطف اور مہر بانیوں کی صفات بیان کرتا ہے اور رحمان ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرماتا ہے کہ اَنْ نَّيْسَ لِلإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى اور وَالَّذِينَ جَهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت :۷۰) فرما کر اپنے فیض کو سعی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے نیز اس میں صحابہ رضی اللہ کا طرز عمل ہمارے واسطے ایک اسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے۔صحابہ کی زندگی میں غور کر کے دیکھو۔بھلا انہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کر لیے تھے ؟ نہیں! بلکہ انہوں نے تو خدا