تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 290
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۹۰ سورة النجم کے اذن اور امر کی ایک کل ہوتی ہے۔ایسی حالت میں اس پر مَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ مقام کامل اور اکمل طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه ۱۰) یادر ہے کہ اگر چہ ہر ایک نبی میں مہدی ہونے کی صفت پائی جاتی ہے کیونکہ سب نبی تلامیذ الرحمان ہیں اور نیز اگر چہ ہر ایک نبی میں مؤید بروح القدس ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ تمام نبی رُوح القدس سے تائید یافتہ ہیں لیکن پھر بھی یہ دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں یعنی مہدی کا نام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے۔اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے گو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے رو سے بھی فائق ہیں کیونکہ اُن کو شدید القوی کا دائی انعام دیا گیا ہے لیکن روح القدس کے مرتبہ میں جو شدید القوی سے کم مرتبہ ہے حضرت مسیح کو یہ خصوصیت دی گئی ہے جیسا کہ یہ دونوں خصوصیتیں قرآن شریف سے ظاہر ہیں۔آنحضرت کا نام امی مہدی رکھا اور عَلَمَهُ شَدِيدُ القُوای فرمایا۔اور حضرت مسیح کو رُوح القدس سے تائید یافتہ قرار دیا جیسا کہ کسی شاعر نے بھی کہا ہے فیض روح القدس ارباز مدد فرمایید ہمہ آں کارکنند آنچه مسیحامے کرد اور نبیوں کی پیشگوئیوں میں یہ تھا کہ امام آخرالزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھی ہو جائیں گی۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ آدھا اسرائیلی ہو گا اور آدھا اسماعیلی (اربعین نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۳۵۹،۳۵۸ حاشیه ) مہدی کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں شاگرد یا مرید نہ ہو اور خدا کی ایک خاص تحلی تعلیم لدنی کے نیچے دائمی طور پر نشوونما پاتا ہو جور وح القدس کے ہر یک تمثل سے بڑھ کر ہے اور ایسی تعلیم پانا صفت محمدی ہے اور اسی کی طرف آیت عَلَمَهُ شَدِيدُ القُوای میں اشارہ ہے اور اس فیض کے دائمی اور غیر منفک ہونے کی طرف آیت وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ الا وحي يوحی میں اشارہ ہے اور مسیح کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں جو دائمی طور پر وہ رُوح القدس اس کے شامل ہو۔جو شدید القوی کے درجہ سے کمتر ہے کیونکہ روح القدس کی تاثیر یہ ہے کہ وہ اپنے منزل علیہ میں ہو کر انسانوں کو راستے کا ملزم بناتا ہے مگر شدید القومی راستے کا اعلیٰ رنگ منزل علیہ میں ہو کر انسانوں کے دلوں میں چڑھتا ہے۔اربعین نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۶۱،۳۶۰ حاشیه )