تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 289

۲۸۹ سورة النجم تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر قرآن شریف میں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى یہ اس شدید اور اعلیٰ ترین قرب ہی کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال تزکیہ نفس اور مقرب الہی کی ایک دلیل ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۱) پیشگوئی کا مقام اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ درجہ کے تقرب کے بڑوں ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں وه مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی کا مصداق ہوتا ہے اور یہ درجہ تب ملتا ہے جب دنا فتدلی کے مقام پر پہنچے۔جب تک ظلی طور پر اپنی انسانیت کی چادر کو پھینک کر الوہیت کی چادر کے نیچے اپنے آپ کو نہ چھپائے یہ مقام اُسے کب مل سکتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں بعض سلوک کی منزلوں سے ناواقف صوفیوں نے آکر ٹھوکر کھائی ہے اور اپنے آپ کو وہ خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کی اس ٹھوکر سے ایک خطر ناک غلطی پھیلی ہے جس نے بہتوں کو ہلاک کر ڈالا اور وہ وحدت وجود کا مسئلہ ہے جس کی حقیقت سے یہ لوگ ناواقف محض ہوتے ہیں۔میرا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی کے درجہ پر جب تک انسان نہ پہنچے اس وقت تک اُسے پیشگوئی کی قوت نہیں مل سکتی اور یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ انسان قرب الہی حاصل کرے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷/ مارچ۱۹۰۱ صفحه ۴) فرماتا ہے کہ اُس کی زبان ہو جاتا ہوں اسی پر اشارہ ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اس لئے رسول صلعم نے جو فر ما یا وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تھا۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۴) الہام کچھ شے نہیں جب تک کہ انسان اپنے تئیں شیطان کے دخل سے پاک نہ کر لے اور بے جا تعصبوں اور کینوں اور حسدوں سے اور ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے اپنے آپ کو صاف نہ کر لے۔دیکھو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک حوض ہے اور اس میں بہت سی نالیاں پانی کی گرتی ہیں۔تو پھر ان نالیوں میں سے ایک کا پانی گندہ ہے تو کیا وہ سارے پانی کو گندہ نہ کر دے گا۔یہی راز ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت کہا گیا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى ہاں انسان کو ان کمزوریوں کے دور کرنے کے واسطے استغفار بہت پڑھنا چاہیے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۸ مورخه ۷ ارمئی ۱۹۰۱ صفحه ۱۳) جب انسان حجتہ اللہ کے مقام پر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی اس کے جوارح ہو جاتا ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ تو انھوی کے یہی معنے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار اور اس کا وفادار بندہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اسے کامل صلح ہوتی ہے۔اس کی کوئی حرکت کوئی سکون اللہ تعالیٰ