تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 266

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة التويت لا قُتِلَ الْخَرَّصُونَ ) الَّذِينَ هُمْ فِي غَيْرَةٍ سَاهُونَ۔اللہ تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتا کہ ستیا ناس ہو گیا اٹکل بازیاں کرنے والوں کا جن کے نفوس غمر ہ میں پڑے ہوئے ہیں۔غمرہ دبانے والی چیز کو کہتے ہیں جو سر اُٹھانے نہ دے۔کھیت پر بھی عمرہ پڑتا ہے جیسے کھیتوں پر پڑتا ہے جسے کرنڈ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الکل بازیاں کرنے والوں کا ستیا ناس ہو گیا۔ہنوز ان کے نفوس عمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔مومنوں کو اس آیت میں ایک نظیر دے کہ متنبہ کیا جاتا ہے کہ جب تک عمرہ دور نہ ہو تو علی وجہ البصیرت کام نہیں ہو سکتا اور وہ اولوا الابصار نہیں کہلاتے۔قتل اس لئے فرمایا کہ وہ رحم کی جگہ ہے گویا وہ فاعل بھی خود ہی ہیں۔اپنے آپ کو خود ہلاک کیا۔بعض آدمیوں میں خراص ہونے کا مادہ ہوتا ہے۔وہ بصیرت اور دور اندیشی سے کام نہیں لیتے بلکہ فنون فاسدہ اور انکلوں سے کام لیتے ہیں اور وہ اسی میں اپنا کمال سمجھتے ہیں۔میری غرض یہ تھی کہ حصہ اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نمونہ پیش کروں جو ایک فرد اکمل تھے زاں بعد متفرق طور پر آپ کے اخلاق سے حصہ لیا گیا۔کسی نے ایک لیا اور دوسرے نے کوئی اور اور ایک کو دوسرے میں عمرہ ہو گیا۔جس طرح کسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس عمرہ کو دور کرے ورنہ اُس کا نتیجہ دوسرے پودوں پر اچھا نہیں ہوگا اسی طرح ہر ایک انسان کو ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی عمرہ کو دور کرے ورنہ اندیشہ ہے کہ دوسری صفات حسنہ کو بھی نہ لے بیٹھے۔وفى أمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۱۵۵،۱۵۴) جب روٹی کھاؤ تو سائل کو بھی دو اور کتے کو بھی ڈال دیا کرو اور دوسرے پر ند وغیرہ کو بھی اگر موقع ہو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) اور ان کے مالوں میں سوالیوں اور بے زبانوں کا حق بھی ہے۔بے زبانوں سے مراد کتے ، بلیاں، چڑیاں ، بیل ، گدھے، بکریاں اور دوسری چیزیں ہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۵۷) وفي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔کیا تم اپنی جانوں میں غور نہیں کرتے۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی روح میں بڑے بڑے