تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 265

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ سورة التديت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الدّريت بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالثَّارِيتِ ذَرُوا فَالْحَمِلتِ وقَرَّانَ فَالْجَرِيتِ يُسْرًا فَالْمُقَسَمَتِ أَمْران ان ہواؤں کی قسم ہے جو سمندروں اور دوسرے پانیوں سے بخارات کو ایسا جدا کرتی ہیں جو حق جدا کرنے کا ہے۔پھر ان ہواؤں کی قسم ہے جو ان گراں بار بخارات کو حمل دار عورتوں کی طرح اپنے اندر لے لیتی ہیں پھر ان ہواؤں کی قسم ہے جو بادلوں کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے چلتی ہیں۔پھر ان فرشتوں کی قسم ہے جو در پردہ ان تمام امور کے منصرم اور انجام دہ ہیں یعنی ہوائیں کیا چیز ہیں اور کیا حقیقت رکھتی ہیں جو خود بخود بخارات کو سمندروں میں سے اٹھاویں اور بادلوں کی صورت بناویں اور عین محل ضرورت پر جا کر برساویں اور مقسم امور بنیں یہ تو در پردہ ملائک کا کام ہے سو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں اول حکمائے ظاہر کے طور پر بادلوں کے برسنے کا سبب بتلایا اور بیان فرمایا کہ کیوں کر پانی بخار ہوکر بادل اور ابر ہو جاتا ہے اور پھر آخری فقرہ میں یعنی فالمُقسمتِ امرا میں حقیقت کو کھول دیا اور ظاہر کر دیا کہ کوئی ظاہر بین یہ خیال نہ کرے کہ صرف جسمانی علل اور معلومات کا سلسلہ نظام ربانی کے لئے کافی ہے بلکہ ایک اور سلسال عل روحانیہ کا اس جسمانی سلسلہ کے نیچے ہے جس کے سہارے سے یہ ظاہری سلسلہ جاری ہے۔آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۶،۱۳۵)