تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 263
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة ق ہم انسان کی رگ جان سے بھی اس سے نزدیک تر ہیں۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۰) خدا ہر جگہ حاضر ناظر ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔۔۔۔۔وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ لَهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا وَ لَدَيْنَا مَزِيدُ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۱ مورخه ۲۲ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۲) خدا کا تجد دبے پایا ہے جو بھی ختم نہیں ہو گا۔خدا کے کاموں میں انتہا نہیں۔فرماتا ہے وَ لَدَيْنَا مَزيدُ یعنی زیادتی ہوتی رہے گی۔البدر جلد اوّل نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۱ ) وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سَنَةِ أَيَّامٍ وَ مَا مَسَّنَا مِنْ ، لغوب ۳۹ رہی یہ بات کہ خدا نے چھ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا سواؤل تو واضح ہو کہ آرام کا لفظ قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا۔ہاں توریت میں یہ لفظ ہے سو وہ کوئی استعارہ ہوگا لیکن اس دھوکہ کے دُور کرنے کے لئے اس موقع پر قرآن شریف نے ایک اور لفظ اختیار کیا ہے اور وہ یہ ہے وما مَسَّنَا مِن تُغُوبِ یعنی ہم نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ہم اس سے تھکے نہیں۔یہ لفظ گویا اُس لفظ کا رد ہے کہ خدا نے ساتویں دن آرام کیا۔کیونکہ ظاہری معنے اگر لئے جاویں تو اس سے خدا کا تھکنا ہی پایا جاتا ہے وجہ یہ کہ آرام وہی کرتا ہے جو تھکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تھکنے سے پاک ہے۔کوئی نقص اُس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۲، ۲۲۳)