تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 257

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ سورة الحجرات کے بعد یشوع بن نون کو اپنے خلافت کے زمانہ میں پیش آیا اس وقت خدا تعالیٰ نے اس طوفان سے اعجازی طور پر یوشع بن نون اور اس کے لشکر کو بچا لیا اور میر دن میں خشکی پیدا کر دی جس سے وہ بآسانی گزر گیا وہ خشکی بطور جوار بھاٹا تھی یا محض ایک فوق العادت اعجاز تھا۔بہر حال اس طرح خدا نے ان کو طوفان اور دشمن کے صدمہ سے بچایا اسی طوفان کی مانند بلکہ اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفتہ الحق کو مع تمام جماعت صحابہ کے جو ایک لاکھ سے زیادہ تھے پیش آیا یعنی ملک میں سخت بغاوت پھیل گئی۔اور وہ عرب کے بادیہ شین جن کو خدا نے فرمایا تھا قالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ( سورة الحجرات ) ضرور تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق وہ بگڑتے تا یہ پیشگوئی پوری ہوتی۔پس ایسا ہی ہوا اور وہ سب لوگ مرتد ہو گئے اور بعض نے زکوۃ سے انکار کیا اور چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا جن کے ساتھ کئی لاکھ بد بخت انسانوں کی جمعیت ہو گئی اور دشمنوں کا شمار اس قدر بڑھ گیا کہ صحابہ کی جماعت اُن کے آگے کچھ بھی چیز نہ تھی اور ایک سخت طوفان ملک میں بر پا ہوا یہ طوفان اُس خوفناک پانی سے بہت بڑھ کر تھا جس کا سامنا حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو پیش آیا (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۸۷،۱۸۶) تھا۔خدا جو مومنوں کی تعریف کرتا ہے اور رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْہ کہتا ہے اسی لیے کہ اُنہوں نے اپنی فراست سے پہلے رسول اللہ کو مان لیا۔لیکن جب کثرت سے لوگ داخل ہونے لگے۔اور انکشاف ہو گیا۔اس وقت داخل ہونے والے کا نام الناس رکھا ہے۔اس حالت میں تو گویا منع کرتا ہے یہ کہہ کر قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَ لكن قُولُوا اَسْلَمْنَا یعنی یہ مت کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی۔ایمان اس وقت ہوتا ہے، جب ابتلاء کے موقعے آویں۔جن پر ایمان لانے کے بعد ابتلا کے موقعے نہیں آئے۔وہ اسلمنا میں داخل ہیں۔اُنہوں نے تکلیف کا نشانہ ہو کر نہیں دیکھا، بلکہ وہ اقبال اور نصرت کے زمانہ میں داخل ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ فخر کا نام اور خطاب ان کو نہ ملا۔بلکہ الناس ان کا نام رکھا، کیونکہ وہ ایسے وقت داخل ہوئے جب کام چل پڑا۔اور رسول اللہ نے اپنی صداقت کی روشنی دکھلائی۔اس وقت دوسرے مذاہب حقیر نظر آئے ، تو سب داخل ہو گئے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱/۱۰ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۶) یوں کہو کہ ) ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا لیکن ان کے دل میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا۔البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵)