تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 254
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا ۲۵۴ سورة الحجرات کریں کہ اس کے تابعدار بنیں اور اس کو اپنا بزرگ قرار دیں اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھوکر طبعاً نوع انسان کو پیش آجاتی ہے۔29 تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۷۶ تا ۲۷۹) وو مکرم و معظم کوئی دُنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے اِنَّ اكْرَمَكُمُ عِنْدَ اللهِ انْقَكُم إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِیر یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں خدا تعالیٰ نے محض عرف کے لئے یہ ذاتیں بنائیں اور آج کل تو صرف بعد چار پشتوں کے حقیقی پتہ لگانا ہی مشکل ہے۔متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کوئی سند نہیں حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقویٰ ہے۔دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔مال و دولت یانسی بزرگی پر بے جا فخر کر کے دوسروں کو ذلیل اور حقیر نہ سمجھو۔خدا تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو متقی ہے چنانچہ فرمایا ہے۔انّ و, أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۰) الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ ، صفحہ ۲) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور۔دوسری کو ہلاک کرے گا۔یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہو سکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور نا پاک بھی وہیں۔ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔خوش قسمت ہے وہ انسان جو شقی ہے اور بد بخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۳) خدا تعالیٰ نہ محض جسم سے راضی ہوتا ہے نہ قوم سے۔اس کی نظر ہمیشہ تقویٰ پر ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ الله انفسکم یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سے زیادہ بزرگی رکھنے والا وہی ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔یہ بالکل جھوٹی باتیں ہیں کہ میں سید ہوں یا مغل ہوں یا پٹھان اور شیخ ہوں۔اگر بڑی قومیت پر فخر کرتا ہے تو یہ فخر فضول ہے۔مرنے کے بعد سب قو میں جاتی رہتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور قومیت پر کوئی نظر نہیں اور کوئی شخص محض اعلیٰ خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے نجات نہیں پاسکتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو کہا کہ اے فاطمہ ! تو اس بات پر ناز نہ کر کہ تو پیغمبر زادی ہے۔خدا کے نزدیک قومیت کا لحاظ نہیں۔وہاں جو مدارج ملتے ہیں وہ تقویٰ کے لحاظ سے ملتے ہیں۔یہ قومیں اور قبائل دنیا کا عرف اور انتظام