تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 253
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورة الحجرات رزیل سے شریف بن جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ مثلاً بھنگی یعنی چوہڑے یا چمار جو ہمارے ملک میں سب قوموں سے رزیل تر خیال کئے جاتے ہیں کسی زمانہ میں شریف ہوں اور اپنے بندوں کے انقلابات کو خدا ہی جانتا ہے دوسروں کو کیا خبر ہے۔سو عام طور پر پنجہ مارنے کے لائق یہی آیت ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتقكم جس کے یہ معنے ہیں کہ تم سب میں سے خدا کے نزدیک بزرگ اور عالی نسب وہ ہے جو سب سے زیادہ اس تقویٰ کے ساتھ جو صدق سے بھری ہوئی ہو خدا تعالیٰ کی طرف جھک گیا ہوا اور خدا سے قطع تعلق کا خوف ہر دم اور ہر لحظہ اور ہر ایک کام اور ہر ایک قول اور ہر ایک حرکت اور ہر ایک سکون اور ہر ایک خلق اور ہر ایک عادت اور ہر ایک جذ بہ ظاہر کرنے کے وقت اُس کے دل پر غالب ہو۔وہی ہے جو سب قوموں میں سے شریف تر اور سب خاندانوں میں سے بزرگ تر اور تمام قبائل میں سے بہتر قبیلہ میں سے ہے۔اور اس لائق ہے کہ سب اس کی راہ پر فدا ہوں۔غرض شریعت اسلامی کا یہ تو عام قانون ہے کہ تمام مدار تقویٰ پر رکھا گیا ہے لیکن نبیوں اور رسولوں اور محدثوں کے بارے میں جو خدا تعالی کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں اور تمام قوموں کے لئے واجب الاطاعت ٹھہرتے ہیں قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص قانون ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ہم اس سے پہلے ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے اولیاء اللہ جو مامور نہیں ہوتے یعنی نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور اُن میں سے نہیں ہوتے جو دنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بلاتے ہیں ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں۔کیونکہ ان کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے لیکن ان کے مقابل پر ایک دوسری قسم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لے کر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھ لیں اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے اُن نائبوں کی اطاعت کریں۔اس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالی کی یہی عادت ہے کہ ان کو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے تا ان کے قبول کرنے اور ان کی اطاعت کا جو ا اُٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھو کر کھاویں اور اُن کو ایسا ابتلا پیش آوے جو ان کو اس سعادت عظمیٰ سے محروم رکھے کہ وہ اُس کے مامور کے قبول کرنے سے اس طرح پر رک جائیں کہ اس شخص کی نیچ قوم کے لحاظ سے ننگ اور عار اُن پر غالب ہو اور وہ وہی نفرت کے ساتھ اس بات سے کراہت