تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 252

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ سورة الحجرات اولیاء اللہ اور رسول اور نبی جن پر خدا کا رحم اور فضل ہوتا ہے اور خدا ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لئے مامور نہیں ہوتے بلکہ اُن کا کاروبار اپنے نفس تک ہی محدود ہوتا ہے۔اور اُن کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر دم اپنے نفس کو ہی زہد اور تقویٰ اور اخلاص کا صیقل دیتے رہتے ہیں اور حتی الوسع خدا تعالیٰ کی ادق سے اُدق رضامندی کی راہوں پر چلتے اور اُس کے بار یک وصایا کے پابند رہتے ہیں اور ان کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان اور عالی قوم میں سے ہوں جو علونسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا خاندان ہو بلکہ حسب آیت کریمہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انفسکم صرف ان کی تقویٰ دیکھی جاتی ہے گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے یا مثلاً کوئی اُن میں سے ذات کا کنجر ہو جس نے اپنے پیشہ سے تو بہ کر لی ہو یا اُن قوموں میں سے ہو جو اسلام میں دوسری قوموں کے خادم اور نیچی قو میں سمجھی جاتی ہیں۔جیسے حجام۔موچی۔تیلی۔ڈوم۔میراسی۔سقے۔قصائی۔جولا ہے۔کنجری۔تنبولی۔دھوبی۔مچھوے۔بھڑ بھونجے۔نانبائی وغیرہ یا مثلاً ایسا شخص ہو کہ اس کی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا۔یہ تمام لوگ تو بہ نصوح سے اولیاء اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ درگاہ کریم ہے اور فیضان کی موجیں بڑے جوش سے جاری ہیں اور اُس قدوس ابدی کے دریائے محبت میں غرق ہو کر طرح طرح کے میلوں والے اُن تمام میلوں سے پاک ہو سکتے ہیں جو عرف اور عادت کے طور پر اُن پر لگائے جاتے ہیں۔اور پھر بعد اس کے کہ وہ اُس خدائے قدوس سے مل گئے۔اور اس کی محبت میں محو ہو گئے اور اس کی رضا میں کھوئے گئے سخت بدذاتی ہوتی ہے کہ اُن کی کسی پہنچ ذات کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ اب وہ وہ نہیں رہے اور انہوں نے اپنی شخصیت کو چھوڑ دیا اور خدا میں جاملے اور اس لائق ہو گئے کہ تعظیم سے ان کا نام لیا جائے۔اور جو شخص بعد اس تبدیلی کے ان کی تحقیر کرتا ہے یا ایسا خیال دل میں لاتا ہے وہ اندھا ہے اور خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہے۔اور خدا کا عام قانون یہی ہے کہ اسلام کے بعد قوموں کی تفریق منادی جاتی ہے اور پیچ اورنچ کا خیال دُور کیا جاتا ہے۔ہاں قرآن شریف سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ بیاہ اور نکاح میں تمام قو میں اپنے قبائل اور ہم رتبہ قوموں یا ہم رتبہ اشخاص اور گفو کا خیال کر لیا کریں تو بہتر ہے تا اولاد کے لئے کسی داغ اور تحقیر اور جنسی کی جگہ نہ ہو لیکن اس خیال کو حد سے زیادہ نہیں کھینچنا چاہئے کیونکہ قوموں کی تفریق پر خدا کی کلام نے زور نہیں دیا صرف ایک آیت سے گفو اور حسب نسب کے لحاظ کا استنباط ہوتا ہے اور قوموں کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مدت دراز کے بعد شریف سے رزیل اور