تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 251
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة الحجرات موجود ہے تو اُسے برا لگے غیبت ہے اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے اور تو بیان کرتا ہے تو اس کا نام بہتان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کے گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے ان میں عیب کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ آیت بریکار جاتی ہے۔اگر مومنوں کو ایسا ہی مطہر ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سرزد نہ ہوتی تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸ / جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اُسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے۔مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی برا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل و نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو۔یہ سب برے کام ہیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۶ صفحه ۳) يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ انْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے ان کے سہولت تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کر دیا اور ہر ایک قوم کے لئے اُس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے یايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمُ مِنْ ذَكَرٍ وَ أَنْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا - چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۴۶) إنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ القَكُم یعنی جس قدر کوئی تقویٰ کی دقیق را ہیں اختیار کرے اُسی قدر خدا تعالی کے نزدیک اس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے۔پس بلا شبہ یہ نہایت اعلیٰ مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل از خطرات مخطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ماتقدم کی جائے۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۴۶)