تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 241
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة الفتح اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا محمد خدا کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں یعنی کفار ان کے سامنے لا جواب اور عاجز ہیں اور ان کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۶، ۶۱۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) محمد رسول اللہ ہیں اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور با ہم رحم کرنے والے ہیں۔آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ ٹائٹل پیج ) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام ہیں (۱) ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ۔۔۔۔ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّورِيةِ - اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۴۳) مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَذَ آش آہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ ہے جب بہت سے مومنین کی معیت ہوئی جنہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کئے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ / جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۱۱) مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔رسول اللہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی ہی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِيْنَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكَفَارِ 99191 رُحَمَاءُ بينهم۔- ط الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۴ ۱۷ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۳) فَإِنَّ مُوْسٰى أَخْبَرَ عَنْ صَحْبِ كَانُوا موسیٰ علیہ السلام نے اشدّاءُ عَلَى الْكَفَّارِ کہہ کر ان مَظْهَرَ اسْمِ مُحَمَّدٍ نَبِيِّنَا الْمُخْتَارِ وَصُوَرَ اصحاب کی خبر دی جو ہمارے برگزیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جَلَالِ اللهِ الْقَهَّارِ بِقَوْلِهِ أَشِدَّاءُ عَلَى محمد نام کے مظہر تھے اور خدائے قہار کے جلال کو ظاہر الْكُفَّارِ "۔وَإِنَّ عِيسَى أَخْبَرَ عَنْ أَخَرَيْنَ کرنے والے تھے اور عیسی علیہ السلام نے ایک دوسرے مِنْهُمْ وَعَنْ إِمَامٍ تِلْكَ الأَبْرَارِ آغنی گروہ اور ان کے امام مسیح موعود کی خبر دی جو رحم کرنے الْمَسِيحَ الَّذِي هُوَ مَظْهَرُ أَحْمَدَ الرَّاحِم والے اور پردہ پوشی کرنے والے احمد نام کے مظہر اور السَّتّارِ۔وَمَنْبَعُ جَمَالِ اللهِ الرَّحِيْمِ خدائے رحیم و غفار کے جمال کا سرچشمہ ہیں ان الفاظ میں "