تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 240
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۰ سورة الفتح مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت با ہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اُس کا محل اور مورد ہے یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے۔گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو اور اگر چہ دین اسلام اپنے دلائل حقہ کے رو سے قدیم سے غالب چلا آیا ہے اور ابتدا سے اس کے مخالف رسوا اور ذلیل ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس غلبہ کا مختلف فرقوں اور قوموں پر ظاہر ہونا ایک ایسے زمانہ کے آنے پر موقوف تھا کہ جو باعث کھل جانے راہوں کے تمام دنیا کو مالک متحدہ کی طرح بناتا ہو اور ایک ہی قوم کے حکم میں داخل کرتا ہو اور تمام اسباب اشاعت تعلیم اور تمام وسائل اشاعت دین کے تمام تر سہولت و آسانی پیش کرتا ہو اور اندرونی اور بیرونی طور پر تعلیم حقانی کے لئے نہایت مناسب اور موزوں ہو۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۴،۵۹۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) دو خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۶) مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَةً أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَابِهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَيةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْعَهُ فَازَرَة فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُرَاعَ لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكَفَارَ وَعَدَ