تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 227
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۷ سورة محمد کہ طاعون سے محفوظ ہو۔اسی طرح پر جب تک یہ چوہے اندر ہیں اس وقت تک ایمان خطرہ میں ہے۔جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو خوب غور سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے قدم اُٹھاؤ۔میں نہیں جانتا کہ اس مجمع میں جولوگ موجود ہیں آئندہ ان میں سے کون ہوگا اور کون نہیں۔یہی وجہ ہے کہ میں نے تکلیف اُٹھا کر اس وقت کچھ کہنا ضروری سمجھا ہے تا میں اپنا فرض ادا کر دوں۔پس کلمہ کے متعلق خلاصہ تقریر کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا معبود اور محبوب اور مقصود ہو۔اور یہ مقام اسی وقت ملے گا جب ہر قسم کی اندرونی بدیوں سے پاک ہو جاؤ گے اور اُن کو جو تمہارے دل میں ہیں نکال دو الحاکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخه ۱۷ار جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۳ تا ۵ ) اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس نے ایک مختصر سا کلمہ سنا دیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک خدا کو مقدم نہ کیا گے۔جاوے۔جب تک خدا کو معبود نہ بنایا جاوے۔جب تک خدا کو مقصود نہ ٹھہرایا جاوے انسان کو نجات حاصل البدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۱) نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ الفاظ سے تعلق نہیں رکھتا وہ دلوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ درحقیقت اس کلمہ کے مفہوم کو اپنے دل میں داخل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت پورے رنگ کے ساتھ اُن کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔جب کوئی شخص بچے طور پر کلمہ کا قائل ہو جاتا ہے تو بجز خدا کے اور کوئی اس کا پیارا نہیں رہتا۔بجز خدا کے کوئی اس کا معبود نہیں رہتا اور بجز خدا کے کوئی اس کا مطلوب باقی نہیں رہتا۔وہ مقام جو ابدال کا مقام ہے اور وہ جو قطب کا مقام ہے اور وہ جو غوث کا مقام ہے وہ یہی ہے کہ کلمہ لا إِلهَ إِلَّا اللہ پر دل سے ایمان ہو اور اس کے سچے مفہوم پر عمل ہو۔خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لا إلهَ إِلَّا اللہ کا قائل نہیں۔البدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۱) البدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخه ۱۰ار جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۲) نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ اُن پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہرگز معصوم اور محفوظ نہیں ہوسکتا اللهُم بَاعِدُ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ اور دوسری دعائیں بھی استغفار کے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔عبودیت کا ستر یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے