تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 225

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورة محمد یہ بات پیدا ہو جاتی ہے تو ایسا انسان فی الحقیقت جنت میں داخل ہو جاتا ہے نہ صرف مرنے کے بعد بلکہ اسی زندگی میں وہ جنت میں ہوتا ہے۔یہ سچی بات ہے اور جلد سمجھ میں آجاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سوا انسان کا کوئی محبوب اور مقصود نہ رہے تو پھر کوئی دُکھ یا تکلیف اُسے ستاہی نہیں سکتی۔یہ وہ مقام ہے جو ابدال اور قطبوں کو ملتا ہے۔آپ یہ خیال نہ کریں کہ ہم کب جوں کی پرستش کرتے ہیں۔ہم بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔یادرکھو یہ تو ادنی درجہ کی بات ہے کہ انسان بتوں کی پرستش نہ کرے۔ہندو لوگ جن کو حقائق کی کوئی خبر نہیں اب بتوں کی پرستش چھوڑ رہے ہیں۔معبود کا مفہوم اسی حد تک نہیں کہ انسان پرستی یا بت پرستی تک ہو اور بھی معبود ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہوائے نفس اور ہوس بھی معبود ہیں جو شخص نفس پرستی کرتا ہے یا اپنی ہوا و ہوس کی اطاعت کر رہا ہے اور اس کے لئے مر رہا ہے وہ بھی بت پرست اور مشرک ہے۔یہ لافی جنس ہی نہیں کرتا بلکہ ہر قسم کے معبودوں کی نفی کرتا ہے خواہ وہ انفسی ہوں یا آفاقی۔خواہ وہ دل میں چھپے ہوئے بت ہیں یا ظاہری بت ہیں۔مثلاً ایک شخص بالکل اسباب ہی پر توکل کرتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا بت ہے۔اس قسم کی بت پرستی تپ دق کی طرح ہوتی ہے جو اندر ہی اندر ہلاک کر دیتا ہے۔موٹی قسم کے بت تو جھٹ پٹ پہچانے جاتے ہیں اور اُن سے مخلصی حاصل کرنا بھی سہل ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ لاکھوں ہزاروں انسان اُن سے الگ ہو گئے اور ہور ہے ہیں۔یہ ملک جو ہندوؤں سے بھرا ہوا تھا کیا سب مسلمان ان میں سے ہی نہیں ہوئے ؟ پھر انہوں نے بت پرستی کو چھوڑا یا نہیں؟ اور خود ہندوؤں میں بھی ایسے فرقے نکلتے آتے ہیں جواب بت پرستی نہیں کرتے۔لیکن یہاں تک ہی بت پرستی کا مفہوم نہیں ہے۔یہ تو سچ ہے کہ موٹی بت پرستی چھوڑ دی ہے مگر ابھی تو ہزاروں بت انسان بغل میں لیے پھرتا ہے اور وہ لوگ بھی جو فلسفی اور منطقی کہلاتے ہیں۔وہ بھی ان کو اندر سے نہیں نکال سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا یہ کیڑے اندر سے نکل نہیں سکتے یہ بہت ہی بار یک کیڑے ہیں اور سب سے زیادہ ضرر اور نقصان ان کا ہی ہے۔جو لوگ جذبات نفسانی سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حدود سے باہر ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر حقوق العباد کو بھی تلف کرتے ہیں وہ ایسے نہیں کہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ ان میں ہزاروں کو مولوی فاضل اور عالم پاؤ گے اور بہت ہوں گے جو فقیہہ اور صوفی کہلاتے ہوں گے مگر باوجود ان باتوں کے وہ بھی ان امراض میں مبتلا نکلیں گے ان بتوں سے پر ہیز کرنا ہی تو