تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 207

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۰۷ سورة الجاثية بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الجاثية بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تِلكَ أَيتُ اللهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ، فَبِأَيِّ حَدِيثِ بَعْدَ اللهِ وَ أَيْتِهِ يُؤْمِنُونَ سوایسی کون کی حدیث ہے جس پر تم اللہ اور اس کی آیات کو چھوڑ کر ایمان لاؤ گے۔یعنی اگر کوئی حدیث قرآن کریم سے مخالف ہو تو ہر گز نہیں ماننی چاہیے بلکہ رڈ کردینی چاہیے ہاں اگر کوئی حدیث بذریعہ تاویل قرآن کریم کے بیان سے مطابق آسکے مان لینا چاہیے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۴) خدا اور اُس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے۔اس جگہ حدیث کے لفظ کی تنگیر جو فائدہ عموم کا دیتی ہے صاف بتلا رہی ہے کہ جو حدیث قرآن کے معارض اور مخالف پڑے اور کوئی راہ تطبیق کی پیدا نہ ہو۔اُس کورڈ کر دو۔اور اس حدیث میں ایک پیشگوئی بھی ہے جو بطور اشارۃ النص اس آیت سے مترشح ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آیتہ ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی اس اُمت پر آنے والا ہے کہ جب بعض افراد اس امت کے قرآن شریف کو چھوڑ کر ایسی حدیثوں پر بھی عمل کریں گے جن کے بیان کردہ بیان قرآن شریف کے بیانات سے مخالف اور معارض ہوں گے۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۷) تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ