تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 204

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة الدخان میں فرماتا ہے إِنَّا كَا شِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ۔۔۔۔یعنی کا فر عذاب کے وقت کہیں گے کہ اے خدا ہم سے عذاب دفع کر کہ ہم ایمان لائے اور ہم تھوڑا سا یا تھوڑی مدت تک عذاب دور کر دیں گے مگر تم اسے کا فرو پھر کفر کی طرف عود کرو گے۔پس ان آیات سے اور ایسا ہی ان آیتوں سے جن میں قریب الغرق کشتیوں کا ذکر ہے صریح منطوق قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب دنیوی ایسے کافروں کے سر پر سے ٹل جاتا ہے جو خوف کے دنوں اور وقتوں میں حق اور توحید کی طرف رجوع کریں گوامن پا کر پھر بے ایمان ہو جائیں۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۸۵) یہ قدیم سے سنت اللہ ہے کہ جو شخص خوف کی حالت میں رجوع کر کے اور پھر امن پا کر برگشتہ ہو جائے خدا اس کو تھوڑی مہلت دے کر پھر پکڑ لیتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عابِدُونَ یعنی ہم رجوع کے بعد کچھ تھوڑی مدت عذاب کو موقوف رکھیں گے اور پھر پکڑ لیں گے اور تھوڑی مدت اس لئے کہ پھر تم انکار کی طرف رجوع کرو گے۔سو ایسا ہی ہوا۔یہ بات مسلمانوں کو بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ گو ایک شخص کا انجام خدائے تعالیٰ کے علم میں کفر ہو مگر عادت اللہ قدیم سے یہی ہے کہ اس کی تضرع اور خوف کے وقت عذاب کو دوسرے وقت پر ڈال دیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ وعید میں خدا کے ارادہ عذاب کا تخلف جائز ہے مگر بشارت میں جائز نہیں۔يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الكبرى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ) انجام آنهم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحہ کے حاشیہ ) جس دن پکڑیں گے ہم پکڑ ناسخت تحقیق ہم بدلہ لینے والے ہیں۔صلے ج (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۲۲) اِنَّ شَجَرَتَ الرَّقُومِ طَعَامُ الْآثِيْمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِي الْبُطُونِ كَغَلِي الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِن ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ۔زقوم کا درخت ان دوزخیوں کا کھانا ہے جو عمداً گناہ کو اختیار کر لیتے ہیں۔وہ کھانا ایسا ہے جیسا کہ تانبا گلا