تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 203
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الدخان رَبَّنَا اكْشِفُ عَنَا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ انّى لَهُمُ الذِّكرى وَقَدْ جَاءَهُمُ رَسُولٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمْ مَّجْنُونَهُ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ۔کہیں گے اے ہمارے خدا یہ عذاب ہم سے اُٹھا ہم ایمان لائے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۵) وہ وقت ایسا ہوگا کہ یہ بلاء روئے زمین پر عام ہوگی کوئی شہر یا بستی الا ماشاء اللہ اس سے خالی نہ رہے گی بلکہ دریاؤں اور جنگلوں میں بھی طاعون ہو گا۔اس وقت لوگ بھاگنے کی جگہ ڈھونڈیں گے مگر نہ پاویں گے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۲۵،۴۲۴) اے رب ہم سے عذاب کھول دے کہ ہم ایمان لائے اور پھر اس کے جواب میں فرماتا ہے اِنا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ سوره دخان یعنی ہم تھوڑی مدت تک عذاب کھول دیتے ہیں اور پھر تم عود کر و گے اور کافر بن جاؤ گے۔یہ آیت اس بات پر صریح نص ہے کہ خدا تعالیٰ ایک شخص کی تضرع کو قبول کر کے عذاب ٹال دیتا ہے اور جانتا ہے کہ پھر یہ کفر اور فسق کی طرف رجوع کرے گا اور تضرع یا استغفار سے عذاب ٹالنا قدیم عادت اللہ ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے بجز ایسے شخص کے جو کمال تعصب سے اندھا ہو گیا ہو۔ماسوا اس کے یہ مسلم اور مشہور امر ہے کہ جب ہیبت الہی اپنا جلوہ دکھاتی ہے تو اس وقت فاسق انسان کی اور صورت ہوتی ہے اور جب ہیبت کا وقت نکل جاتا ہے تو پھر اپنی شقاوت فطرتی سے اصلی صورت کی طرف عود کر آتا ہے۔ایسے لوگ بہتیرے تم نے دیکھے ہوں گے کہ جب ان پر کوئی مقدمہ دائر ہو جس سے سخت قید یا پھانسی یا سزائے موت کا خطرہ ہو گو یہ بھی گمان ہو کہ شاید رہا ہو جا ئیں تو وہ ایسی ہیبت کو مشاہدہ کر کے اپنی فاسقانہ چال چلن کو بدلا لیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور تو بہ کرتے اور لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔اور پھر جب ان کی اس تضرع کی حالت پر خدا تعالیٰ رحم کر کے ان کو اس بلا سے خلاصی دیتا ہے تو فی الفور ان کے دل میں یہ خیال گزرتا ہے کہ یہ رہائی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اتفاقی امر ہے تب وہ اپنے فسق میں پہلے سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں اور چند روز میں ہی اپنی پہلی عادات کی طرف رجوع کر آتے ہیں۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲) اللہ جل شانہ کفار کا قول ذکر کر کے فرماتا ہے رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ۔۔۔اور پھر جواب