تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 202
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دو سورة الدخان فَارتَقِبُ يَوْمَ تَأتي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ لا يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ پس تو اُس دن کا امیدوار رہ جس دن آسمان ایک کھلا کھلا دھواں لائے گا جس کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ عذاب درد ناک ہے۔۔۔۔اس جگہ دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے جو سات برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں پڑا یہاں تک کہ لوگوں نے مردے اور ہڈیاں کھائی تھیں جیسا کہ ابن مسعود کی حدیث میں مفصل اس کا بیان ہے۔لیکن آخری زمانہ کے لئے بھی جو ہمارا زمانہ ہے اس دخان مبین کا وعدہ تھا اس طرح پر که قبل از ظهور مسیح نہایت درجہ کی شدت سے اس کا ظہور ہوگا۔اب سمجھنا چاہیئے کہ یہ آخری زمانہ کا قحط جسمانی اور روحانی دونوں طور سے وقوع میں آیا۔جسمانی طور سے اس طرح کہ اگر اب سے پچاس برس گذشتہ پر نظر ڈالی جاوے تو معلوم ہوگا کہ جیسے اب غلہ اور ہر یک چیز کا نرخ عام طور پر ہمیشہ کم رہتا ہے اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کہیں نہیں پائی جاتی۔کبھی خواب خیال کی طرح چند روز گرانی غلہ ہوتی تھی اور پھر وہ دن گزر جاتے تھے لیکن اب تو یہ گرانی لازم غیر منفک کی طرح ہے اور قحط کی شدت اندر ہی اندر ایک عالم کو تباہ کر رہی ہے۔اور روحانی طور پر صداقت اور امانت اور دیانت کا قحط ہو گیا ہے اور مکر اور فریب اور علوم وفنون مظلمہ دُخان کی طرح دنیا میں پھیل گئے ہیں اور روز بروز ترقی پر ہیں۔اس زمانہ کے مفاسد کی صورت پہلے زمانوں کے مفاسد سے بالکل مختلف ہے۔پہلے زمانوں میں اکثر نادانی اور امیت رہزن تھی اس زمانہ میں تحصیل علوم ر ہرن ہورہی ہے۔ہمارے زمانہ کی نئی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں دخان سے موسوم کرنا چاہیئے عجیب طور پر ایمان اور دیانت اور اندرونی سادگی کو نقصان پہنچارہی ہے۔سوفسطائی تقریروں کے غبار نے صداقت کے آفتاب کو چھپا دیا ہے اور فلسفی مغالطات نے سادہ لوحوں کو طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔خیالات باطلہ کی تعظیم کی جاتی ہے اور حقیقی صداقتیں اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ عقل کے رہر دوں کو عقل سے درست کرے اور فلسفہ کے سرگشتوں کو آسمانی فلسفہ کے زور سے راہ پر لاوے سو یہ کامل درجہ کا دُخان مبین ہے جو اس زمانہ میں ظاہر ہوا ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۶،۳۷۵)