تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 196
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۶ سورة الزخرف عاقبت خراب ہے اپنی جہالت سے ایسے ایسے معنے کر لیتے ہیں جن سے اصل مطلب فوت ہو جاتا ہے۔آخری قیامت سے یہودیوں کو کیا خوف تھا۔مگر قریب کے عذاب کی پیشگوئی بیشک اُن کے دلوں پر اثر ڈالتی تھی۔افسوس که ساده لوح حجرہ نشین مولویوں کی نظر محدود ہے ان کو معلوم نہیں کہ پہلی کتابوں میں اسی ساعت کا وعدہ تھا جو طیطوس کے وقت یہودیوں پر وارد ہوئی اور قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ عیسی کی زبان پر اُن پر لعنت پڑی اور عذاب عظیم کے واقعہ کو ساعتہ کے لفظ سے بیان کرنا نہ صرف قرآن شریف کا محاورہ ہے بلکہ یہی محاورہ پہلی آسمانی کتابوں میں پایا جاتا ہے اور بکثرت پایا جاتا ہے۔پس نہ معلوم ان سادہ لوح مولویوں نے کہاں سے اور کس سے ٹن لیا کہ ساعۃ کا لفظ ہمیشہ قیامت پر ہی بولا جاتا ہے۔اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۱) يعِبَادِ لا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ (۶۹) اے میرے بندو آج کے دن کچھ تم کو خوف نہیں اور نہ کوئی غم تمہیں ہوسکتا ہے لیکن جو شخص دُنیا میں صراطِ مستقیم پر نہیں چلا وہ اس وقت بھی چل نہیں سکے گا اور دوزخ میں گرے گا اور جہنم کی آگ کا ہیمہ بن جائے گا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۸) قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعِبِدِينَ ان کو کہہ دے کہ اگر خدا کا کوئی فرزند ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی پرستش کرتا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۱۷ ) وَهُوَ الَّذِى فى السَّمَاءِ الهُ وَ فِي الْأَرْضِ الهُ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ۔وہی آسمان میں خدا ہے اور وہی زمیں میں خدا۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۱،۵۲۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وہ آسمان میں ہے یعنی دُور ہے اور زمین میں ہے یعنی نزدیک ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۲) وہی خدا زمین میں ہے اور وہی خدا آسمان میں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۰)