تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 197
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ سورة الزخرف زمین میں وہی خدا ہے اور وہی آسمان میں خدا۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۷ ) وَ تَبْرَكَ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا وَ عِنْدَهُ عِلْمٌ السّاعَةِ ، وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ یہ بات واقعی ہے اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ ساعۃ سے اس جگہ مراد یہودیوں کی تباہی کا زمانہ ہے وہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی تک کہیں پتہ بھی نہیں ہے ایک پہلو سے اول مسیح کے وقت یہودیوں نے بدبختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاری نے بدبختی کا حصہ لے لیا مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کر لی۔اگر ان کی سلطنت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیح والا معاملہ کرتے۔البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱) اصل قیامت کا علم تو سوائے خدا کے اور کسی کو بھی نہیں حتی کہ فرشتوں کو بھی نہیں اور وہاں ساعۃ کا لفظ ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے عورتوں کے حمل کی میعاد نو ماہ دس دن ہوتی ہے۔جب نو ماہ پورے ہو گئے تو اب باقی دس دنوں میں کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کون سے دن وضع حمل ہو گا گھر کا ہر ایک آدمی بچہ جننے کی گھڑی کا منتظر رہتا ہے اسی لئے قیامت کا نام ساعة رکھا ہے کہ اس ساعة کی خبر نہیں۔خدا کی کتابوں میں جو اس کی علامات ہیں ممکن ہے کہ ان سے کوئی آدمی قریب قریب اس زمانہ کا پتہ بھی دے دے مگر اس ساعة کی کسی کو خبر نہیں جیسے وضع حمل کی ساعت کی کسی کو خبر نہیں۔ایک ڈاکٹر سے بھی پوچھو وہ بھی کہے گا کہ نو ماہ اور دس دن۔مگر جو نہی نو ماہ گزریں پھر فکر رہتا ہے کہ دیکھیے کون سے دن ہو کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ ہزار سال کے بعد قیامت قریب ہے اب چھ ہزار تو گزر گئے ہیں قیامت تو قریب ہوگی مگر اس گھڑی کی خبر نہیں۔(الہدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۲۷)