تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة الزخرف کہ نیم ملا خطرہ ایمان۔اے بھلے مانسو! کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عِلم لِلسَّاعَةِ نہیں ہیں جو فرماتے ہیں کہ بُعِثْتُ أنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ( القمر : ٢) یہ کیسی بد بودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ساعۃ سے قیامت سمجھتے ہیں۔اب مجھ سے سمجھو کہ ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسی کے بعد طیطوس رُومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا اور خود خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں سورہ بنی اسرائیل میں اس ساعت کی خبر دی ہے۔اسی آیت کی تشریح اس آیت میں ہے کہ مَثَلًا لِبَنِى اسراویل یعنی عیسی کے وقت سخت عذاب سے قیامت کا نمونہ یہودیوں کو دیا گیا اور اُن کے لئے وہ ساعت ہو گئی۔قرآنی محاورہ کی رُو سے ساعة عذاب ہی کو کہتے ہیں۔سو خبر دی گئی تھی کہ یہ ساعة حضرت عیسی کے انکار سے یہودیوں پر نازل ہوگی۔پس وہ نشان ظہور میں آگیا اور وہ ساعة یہودیوں پر نازل ہوگئی۔اور نیز اُس زمانہ میں طاعون بھی ان پر سخت پڑی اور در حقیقت اُن کے لئے وہ واقعہ قیامت تھا۔جس کے وقت لاکھوں یہودی نیست و نابود ہو گئے اور ہزار ہا طاعون سے مر گئے۔اور باقی ماندہ بہت ذلت کے ساتھ متفرق ہو گئے۔قیامت گبری تو تمام لوگوں کے لئے قیامت ہوگی مگر یہ خاص یہودیوں کے لئے قیامت تھی، اس پر ایک اور قرینہ قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا یعنی اے یہود یو ا عیسی کے ساتھ تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ قیامت کیا چیز ہے۔اُس کے مثل تمہیں دی جائے گی۔یعنی مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَاویل وہ قیامت تمہارے پر آئے گی اس میں شک نہ کرو۔صاف ظاہر ہے کہ قیامت حقیقی جواب تک نہیں آئی اُس کی نسبت غیر موزوں تھا کہ خدا کہتا کہ اس قیامت میں شک نہ کرو اور تم اُس کو دیکھو گے۔اُس زمانہ کے یہودی تو سب مر گئے اور آنے والی قیامت اُنہوں نے نہیں دیکھی۔کیا خدا نے جھوٹ بولا۔ہاں طبی طوس رُومی والی قیامت دیکھی۔سو قیامت سے مراد وہی قیامت ہے جو حضرت مسیح کے زمانہ میں طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں کو دیکھنی پڑی اور پھر طاعون کے ذریعہ سے اُس کو دیکھ لیا۔یہ خدا کی کتابوں میں پرانا وعدہ عذاب کا چلا آتا تھا جس کا بائیل میں جا بجا کر پایا جاتا ہے۔قرآن شریف میں اس کے لئے خاص آیت نازل ہوئی۔یہی وعدہ قرآن شریف اور پہلی کتابوں میں موجود ہے اور اسی سے یہودیوں کو تنبیہ ہوئی۔ورنہ دُور کی قیامت سے کون ڈرتا ہے۔کیا اس وقت کے مولوی اُس قیامت سے ڈرتے ہیں۔ہر گز نہیں۔اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔یہ لفظ ساعة کا کچھ قیامت سے خاص نہیں اور نہ قرآن نے اس کو قیامت سے خاص رکھا ہے۔افسوس کہ نیم ملا جن کی