تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 194

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ سورة الزخرف غَيْرِ أَبِ، وَالتَّفْصِيلُ فِي ذلِكَ أَنَّ فِرْقَةً ہونا تھا اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہود کا ایک فرقہ جو صدوقی مِنَ الْيَهُودِ أَعْلِى الصَّدُوقِيْنَ كَانُوا كَافِرِينَ کہلاتا تھا وہ قیامت سے منکر تھے پس اللہ تعالیٰ نے انہیں بِوُجُودِ الْقِيَامَةِ، فَأَخْبَرَهُمُ اللهُ عَلى بعض انبیاء کی زبان سے خبر دی کہ ان کی قوم میں ایک لڑکا لِسَانِ بَعْضِ أَنْبِيَائِهِ أَنَّ ابْنَا مِنْ قَوْمِهِمْ بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ ان کے لئے قیامت کے وجود پر يُولَدُ مِنْ غَيْرِ أَبٍ، وَهَذَا يَكُونُ ايَةً لَّهُمْ ایک نشان ہوگا اس کی طرف آیت وَ إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ عَلى وُجُودِ الْقِيَامَةِ، فَإِلى هَذَا أَشَارَ في آية میں اشارہ کیا گیا ہے اور اسی طرح آیت وَ لِنَجْعَلَكَ آيَةً وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ وَكَذلِك في آية و للناس میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ہم اسے صدوقی لِنَجْعَلَةُ آيَةً لِلنَّاس أنى لِلصُّدُوقِين فرقہ کے لوگوں کے لئے ایک نشان بنا ئیں گے۔وَقَالَ بَعْضُ الْمُفَسِرِينَ إِنَّهُ ضَمِيرُ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت إِنَّهُ لَعِلْمٌ إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ يَرْجِعُ إِلَى الْقُرْآنِ لِلسَّاعَةِ مِیں إِنَّہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے فَإِنَّ الْقُرْآن أَحْيَا خَلْقًا كَثِيرًا وَجَعَلَهُمُ کیونکہ قرآن کریم نے خلق کثیر کو زندہ کیا اور انہیں قبروں مِنَ الْقُبُورِ فَهَذَا الْبَعْثُ الرُّوحَانِي دَلِيلٌ سے نکالا۔پس یہ بعث روحانی بعث جسمانی یعنی قیامت عَلَى الْبَعْثِ الْإِسْمَانِي يَعْني عَلَى السَّاعَةِ پر ایک دلیل ہے جیسا کہ تفسیر معالم التنزیل وغیرہ کتب كما في مَعَالَمِ التَّنْزِيْلِ وَغَيْرِہ میں مذکورہ ہے۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ آیت انگ فَالْحَاصِلُ أَنَّ ايَةَ إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ لَا لَعِلْمُ لِلسَّاعَة نزول مسیح پر قطعا دلالت نہیں کرتی بلکہ يَدُلُّ عَلى نُزُولِ الْمَسِيحَ قَط بَلْ يُفْحِمُ منکرین کا منہ ایک ٹھوس اور ثابت شدہ دلیل سے بند الْمُنْكِرِينَ بِدَلِيْلٍ مَوْجُوْدٍ ثَابِتٍ، فَلِهَذَا کر دیتی ہے۔پس اسی لئے فرمایا فَلَا تَهْتَرنَ بِهَا کہ تم قَالَ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا، وَلَا يُقَالُ مِثْلُ هَذَا اس میں شک نہ کرو۔اور ایسا قول کسی ایسے نشان کے بارے میں نہیں بولا جاتا جس کا وجود ہی ابھی تک ثابت نہ الْقَوْلِ لِآيَةٍ مَا ثَبَتَ وُجُوْدُهَا بَعْدُ، وَمَا ہو اور نہ ہی مخالفین میں سے کسی نے اسے دیکھا ہو۔(ترجمه از مرتب) رَاهَا أَحَدٌ مِنَ الْمُخَالِفِيْنَ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۳۱۶) | کہتے ہیں کہ عیسی کی نسبت ہے إِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرنا چاہئے مریم :۲۲