تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 193
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۳ سورة الزخرف نشان واقع ہو نیوالے ہیں سو بعد اس کے کہ قرآن قیامت کے آنے پر اپنے اعجازی بیانات اور تاثیرات احیاء موتی سے دلیل محکم قائم کر رہا ہے تم شک مت کرو۔(ازالہ او بام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۱ تا ۳۲۶) اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں بات یہ ہے کہ حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں ایک فرقہ صدوقی نام تھا جو قیامت سے منکر تھے پہلی کتابوں میں بطور پیشین گوئی کے لکھا گیا تھا کہ ان کو سمجھانے کے لئے مسیح کی ولادت بغیر باپ کے ہوگی اور یہ ان کے لئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا جیسا کہ اللہ جلشانہ دوسری آیت میں فرماتا ہے وَ لِنَجْعَلَةَ ايَةً لِلنَّاسِ ( مریم : ۲۲) اس جگہ الناس سے مراد وہی صدوقی فرقہ ہے جو اس زمانہ میں بکثرت موجود تھا چونکہ توریت میں قیامت کا ذکر بظا ہر کسی جگہ معلوم نہیں ہوتا اس لئے یہ فرقہ مردوں کے جی اٹھنے سے بکلی منکر ہو گیا تھا۔اب تک بائیبل کے بعض صحیفوں میں موجود ہے کہ مسیح اپنی ولادت کے رو سے بطور علم الساعۃ کے ان کے لئے آیا تھا۔اب دیکھئے اس آیت کو نزول مسیح سے تعلق کیا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ مفسرین نے کس قدر جدا جدا طور پر اس کے معنے لکھے ہیں ایک جماعت نے قرآن کریم کی طرف ضمیر انه کی پھیر دی ہے کیونکہ قرآن کریم سے روحانی طور پر مردے زندہ ہوتے ہیں اور اگر خواہ نخواہ تحکم کے طور پر اس جگہ نزول مسیح مراد لیا جائے اور وہی نزول ان لوگوں کے لئے جو آنحضرت صلعم کے عہد میں تھے نشان قیامت ٹھہرایا جائے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا اور جن کو یہ خطاب کیا گیا کہ مسیح آخری زمانہ میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہرے گا۔اب تم با وجود اتنے بڑے نشان کے قیامت سے کیوں انکاری ہوئے۔وہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ دلیل تو ابھی موجود نہیں پھر یہ کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان لے آؤ شک مت کرو۔ہم نے دلیل قیامت کے آنے کی بیان کر دی۔الحق مباحثہ دہلی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۹،۱۶۸) فَاعْلَمْ أَنَّهُ تَعَالَى قَالَ وَ إِنَّهُ لَعِلْمٌ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح کے متعلق والله للسَّاعَةِ وَمَا قَالَ إِنَّهُ سَيَكُونُ عِلْمًا تعلم للسّاعَةِ کہا ہے یہ نہیں کہا إِنَّهُ سَيَكُونُ دو للسَّاعَةِ، فَالايَةُ تَدُلُّ عَلى أَنَّه عِلْمٌ عِلْمًا لِلسّاعة۔پس یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی لِلسَّاعَةِ مِنْ وَجْهِ كَانَ حَاصِل لَهُ بِالْفِعْلِ ہے کہ وہ عِلْمٌ للشاعۃ ایک ایسی وجہ سے تھا جو اُ سے لَا أَنْ يَكُونَ مِنْ بَعْدُ في وَقتٍ مِن بالفعل حاصل تھی بعد میں کسی وقت بھی اسے حاصل نہیں الْأَوْقَاتِ۔وَالْوَجْهُ الْحَاصِلُ هُوَ تَوَلّده من ہوگی اور جو وجہ اسے حاصل تھی وہ اس کا بغیر باپ کے پیدا