تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 192
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۲ سورة الزخرف دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔کیا یہ اتمام حجت کا طریق ہے؟ کہ دلیل تو ابھی پردہ غیب میں ہو اور یہ سمجھا جائے کہ الزام پورا ہو گیا ہے۔ایسے معنے قرآن شریف کی طرف منسوب کرنا گویا اس کی بلاغت اور پر حکمت بیان پر دھبہ لگانا ہے۔سچ ہے کہ بعض نے یہی معنے لئے ہیں مگر انہوں نے سخت غلطی کھائی بلکہ حق بات یہ ہے کہ إِنَّهُ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اُٹھنے کے لئے نشان ہے کیونکہ اس سے مُردہ دل زندہ ہو رہے ہیں۔قبروں میں گلے سڑے ہوئے باہر نکلتے آتے ہیں اور خشک ہڈیوں میں جان پڑتی جاتی ہے چنانچہ قرآن شریف میں خود اپنے تئیں قیامت کا نمونہ ظاہر کرتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا لِنخي به بلدة ميتا ( سورة فرقان الجز و نمبر ۱۹) (الفرقان : ۵۰،۴۹ ) یعنی ہم نے آسمان سے پاک پانی اُتار یعنی قرآن تا ہم اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کریں پھر فرماتا ہے وَ احْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا كَذلِكَ الْخُرُوج ( سوروق الجز و نمبر ۲۶) (قی : ۱۲ ) یعنی قرآن کے ساتھ ہم نے زمین مردہ کو زندہ کیا۔ایسا ہی حشر اجساد بھی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔در حقیقت جب ہم ایک منصفانہ نگاہ سے عرب کی آبادیوں پر نظر ڈالیں کہ اپنی روحانی حالت کی رُو سے وہ کیسے قبرستان کے حکم میں ہو گئے تھے اور کس درجہ تک سچائی اور خدا ترسی کی رُوح اُن کے اندر سے نکل گئی تھی اور کیسے وہ طرح طرح کی خرابیوں کی وجہ سے جو اُن کے اخلاق اور اعمال اور عقائد پر اثر کر گئی تھیں سرگل گئے تھے تو بلا اختیار ہمارے اندر سے یہ شہادت نکلتی ہے کہ اُن کا زندہ کرنا جسمانی طور پر مردوں کے جی اُٹھنے سے بمراتب عجیب تر ہے جس کی عظمت نے بے شمار عقلمندوں کی نگاہوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔اب خلاصہ کلام یہ کہ آیت موصوفہ بالا کے حقیقی معنے یہ ہیں جو ہم نے ذکر کئے ہیں یعنی خدائے تعالی جسمانی طور پر مردوں کے جی اُٹھنے پر روحانی طور پر مردوں کا جی اُٹھنا بطور بدیہی نشان کے پیش کرتا ہے جو در حقیقت دلوں پر نہایت مؤثر ہوا اور بے شمار کفار اس نشان کے قائل ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں۔اور ایک جماعت محققین کی بھی یہی معنے آیت موصوفہ بالا کے لیتی ہے۔چنانچہ تفسیر معالم میں زیر تفسیر اس آیت کے یہ معنے لکھے ہیں جیسا کہ تفسیر کی عبارت یہ ہے وَقَالَ الْحَسَنُ وَجَمَاعَةٌ وَإِنَّهُ يَعْنِي وَإِنَّ الْقُرْآنَ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ يُعَلِّمُكُمْ قِيَامَهَا وَيُخْبِرُكُمْ بِأَحْوَالِهَا وَأَهْوَالِهَا فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا يَعْنِي فَلَا تَشُكُنَ فِيْهَا بَعْدَ الْقُرْآنِ یعنی حسن اور ایک جماعت نے اس آیت کے یہی معنے گئے ہیں کہ قرآن قیامت کے لئے نشان ہے اور زبان قال اور حال سے خبر دے رہا ہے کہ قیامت اور اُس کے حالات اور اس کے ہولناک