تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 181

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة الشورى خواص اور عام کی خواہیں اور وہ مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی وانفصالی میں ہرگز برابر نہیں ہیں۔جو لوگ خدائے تعالے کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔دُنیا ان نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا در یوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ادنیٰ مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھ شان بڑھ سکتی ہے۔( توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۹۶) وَ كَافِيْكُمْ مِنْ فَخَرٍ أَنَّ اللهَ افْتَتَحَ فخر کے لحاظ سے تمہیں یہ بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ وَحْيَهُ مِنْ أَدَمَ وَ خَتَمَ عَلى نَبِي كَانَ نے اپنی وحی کو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا اور ایک مِنْكُمْ وَمِنْ أَرْضِكُمْ وَطَنَا وَمَاوی ایسے عظیم الشان نبی پر اُسے ختم کیا جو تم میں سے تھا اور تمہاری زمین اس کا وطن، ملوکی اور جائے پیدائش تھی۔وَمَولِدا - آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۲۰) اور (ترجمه از مرتب) اگر یہ کہا جائے کہ اُنہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی غلطی کا بھی ذکر ہے اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجی سے تھا تو پھر وہ غلطی کیوں ہوئی گو آنحضرت اس پر قائم نہیں رکھے گئے۔تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ اجتہادی غلطی بھی وحی کی روشنی سے دور نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قبضہ سے ایک دم جدا نہیں ہوتے تھے پس اس اجتہادی غلطی کی ایسی ہی مثل ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں چند دفعہ سہو واقع ہوا تا اُس سے دین کے مسائل پیدا ہوں سو اسی طرح بعض اوقات اجتہادی غلطی ہوئی تا اُس سے بھی تکمیل دین ہو۔اور بعض بار یک مسائل اُس کے ذریعہ سے پیدا ہوں اور وہ سہو بشریت بھی تمام لوگوں کی طرح سہو نہ تھا بلکہ دراصل ہمرنگ وجی تھا کیونکہ خدا تعالی کی طرف سے ایک خاص تصرف تھا جو نبی کے وجود پر حاوی ہو کر اُس کو کبھی ایسی طرف مائل کر دیتا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے بہت مصالح تھے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۳ تا ۱۱۵) قرآن شریف جو تمام کتابوں اور علوم کا خاتمہ کرتا ہے اس لئے وہ بڑی اقومی وحی ہے اور شدت کے ساتھ اس کا نزول تھا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶) یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور مہیمن اور پیش رو کے ہے جو قرآن