تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 182

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة الشورى کریم میں وارد ہو چکی ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو توڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک نوشتوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه (۹۱) إِنَّهُ مُعْجِزَةٌ لَا يَأْتِي بِمِثْلِهِ أَحَدٌ مِن قرآن کریم معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس وجن الْإِنْسِ وَالْجَانِ وَإِنَّهُ جَمَعَ مَعَارِفَ نہیں لاسکتا اور اس میں وہ معارف اور خوبیاں جمع ہیں وَمَحَاسِنَ لا يَجْمَعُهَا عِلْمُ الْإِنْسَانِ بَل جنہیں انسانی علم جمع نہیں کر سکتا بلکہ وہ ایسی وحی ہے کہ اس إِنَّهُ وَحْيَّ لَيْسَ كَمِثْلِهِ غَيْرُهُ وَإِنْ كَانَ کی مثل اور کوئی وحی بھی نہیں اگر چہ رحمان کی طرف سے بَعْدُهُ وَحْيا أَخَرَ مِنَ الرَّحْمَانِ فَإِنَّ لِلہ اس کے بعد اور کوئی وحی بھی ہو۔اس لئے کہ وحی رسانی میں تَجَليَاتٍ فِي إِلْحَائِهِ وَإِنَّهُ مَا تَجَلَى مِنْ قَبْلُ خدا کی تجلیات ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلی وَلَا يَتَجَلُّى مِنْ بَعْدُ كَمِثْلِ تَجَلِيهِ لِخَاتَمِ جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی ایسی کسی پر نہ پہلے ہوئی اور نہ أَنْبِيَائِهِ وَلَيْسَ شَأْنُ وَحْيِ الْأَوْلِيَاءِ کبھی پیچھے ہوگی۔اور جوشان قرآن کی وحی کی ہے وہ اولیاء كَمِثْلِ شَأْنٍ وَحْيِ الْفُرْقَانِ وَإِنْ أُوحِيَ کی وحی کی شان نہیں۔اگر چہ قرآن کے کلمات کی مانند کوئی إِلَيْهِمْ كَلِمَةٌ كَمِثْلِ كَلِمَاتِ الْقُرْآنِ فَإِنَّ کلمہ انہیں وحی کیا جائے۔اس لئے کہ قرآن کے معارف کا دَائِرَةً مَعَارِفِ الْقُرْآنِ أَكْبَرُ اللوَائِرِ دائرہ سب دائروں سے بڑا ہے۔اور اس میں سارے وَإِنَّهَا أَحَاطَتِ الْعُلُوْمَ كُلِّهَا وَ جَمَعَتْ في علوم اور ہر طرح کی عجیب اور پوشیدہ باتیں جمع ہیں اور اس نَفْسِهَا أَنْوَاعَ الشَّرَائِرِ وَبَلَغَتْ دَقَائِقُهَا کی دقیق باتیں بڑے اعلیٰ درجہ کے گہرے مقام تک پہنچی إِلَى الْمَقَامِ الْعَمِيقِ الْغَائِرِ وَسَبَقَى ہوئی ہیں۔اور وہ بیان اور برہان میں سب سے بڑھ کر الْكُلّ بَيَانًا وَبُرْهَانًا وَزَادَ عِرْفَانًا وَإِنَّهُ اور اُس میں سب سے زیادہ عرفان ہے اور وہ خدا کا معجز كَلَامُ اللهِ الْمُعْجِرُ مَا قَرَعَ مِثْلُهُ اذَانًا وَلَا کلام ہے جس کی مثل کانوں نے نہیں سنا اور اس کی شان کو يَبْلُغُهُ قَوْلُ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ شَأْنَا۔جن و انس کا کلام نہیں پہنچ سکتا۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) الهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۷۶،۲۷۵) اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ قرآن شریف کو حل کیا جائے اس واسطے اکثر الہامات جو قرآن شریف کے الفاظ میں ہوتے ہیں ان کی ایک عملی تفسیر ہو جاتی ہے۔اس سے خدا تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہی زندہ اور بابرکت زبان ہے اور تاکہ ثابت ہو جائے کہ تیرہ سو سال اس سے قبل ہی اسی طرح یہ خدا کا کلام