تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 178

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 12^ سورة الشورى قضاء و قدر کے اسرار چونکہ عمیق در عمیق ہوتے ہیں اس لئے بعض وقت الہامات اور رؤیا کی تفہیم میں البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۵ء صفحه ۳) انسان کو غلطی لگ جاتی ہے۔شاید ہی کوئی ایسی رات گزرتی ہوگی جس میں کوئی نظارہ آئندہ کے متعلق مجھے نہ دکھایا جاتا ہو لیکن بہت کی باتیں صبح تک بھول جاتی ہیں اور توفیق ہی نہیں ہوتی کہ ان کو ایسے وقت میں لکھ لیا جاوے کہ پھر نہ بھولیں۔اس میں حکمت الہی یہ ہے وہ جس بات کو چاہے یا درکھواتا ہے اور جس کو چاہے بھلوا دیتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۷ ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۱۰) یہ بات تو خود ہر ایک عاقل پر روشن ہے کہ ہر یک نفس اپنی استعداد و قابلیت کے موافق انوار الہیہ کو قبول کرتا ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔اس کے سمجھنے کے لئے آفتاب نہایت روشن مثال ہے۔کیونکہ ہر چند آفتاب اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا ہے۔لیکن اس کی روشنی قبول کرنے میں ہر یک مکان برابر نہیں۔جس مکان کے دروازے بند ہیں اس میں کچھ روشنی نہیں پڑ سکتی اور جس میں ہمقابل آفتاب ایک چھوٹا سا روز نہ ہے اس میں روشنی تو پڑتی ہے مگر تھوڑی جو بکلی ظلمت کو نہیں اٹھا سکتی۔لیکن وہ مکان جس کے دروازے بمقابل آفتاب سب کے سب کھلے ہیں اور دیوار میں بھی کسی کثیف شے سے نہیں بلکہ نہایت مصفی اور روشن شیشہ سے ہیں۔اس میں صرف یہی خوبی نہیں ہوگی کہ کامل طور پر روشنی قبول کرے گا۔بلکہ اپنی روشنی چاروں طرف پھیلا دے گا اور دوسروں تک پہنچا دے گا۔یہی مثال موخر الذکر نفوس صافیہ انبیاء کے مطابق حال ہے۔یعنی جن نفوس مقدسہ کو خدا اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے وہ بھی رفع حجب اور مکمل صفوت میں اس شیش محل کی طرح ہوتے ہیں جس میں نہ کوئی کثافت ہے اور نہ کوئی حجاب باقی ہے۔پس ظاہر ہے کہ جن افراد بشریہ میں وہ کمال تام موجود نہیں۔ایسے لوگ کسی حالت میں مرتبہ رسالت البہی نہیں پاسکتے۔بلکہ یہ مرتبہ قسام ازل سے انہیں کو ملا ہوا ہے جن کے نفوس مقدسہ حجب ظلمانی سے بکلی پاک ہیں۔جن کو اغشیہ جسمانی سے بغایت درجہ آزادگی ہے۔جن کا تقدس و تنزہ اس درجہ پر ہے جس کے آگے خیال کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔وہی نفوس تامہ کاملہ وسیلہ ہدایت جمیع مخلوقات ہیں اور جیسے حیات کا فیضان تمام اعضاء کو قلب کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ایسا ہی حکیم مطلق نے ہدایت کا فیضان انہیں کے ذریعہ سے مقرر کیا ہے۔کیونکہ وہ کامل مناسبت جو مفیض اور مستفیض میں چاہیئے وہ صرف انہیں کو عنایت کی گئی ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۸۹،۱۸۸ حاشیہ نمبر ۱۱)