تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 170
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 16+ سورة الشورى وَيَزِيلَ الْكُرُوبَ وَيَنْزِلُ السَّكِينَةَ پر سکینت نازل کرتی ہے اور کشتی کے مشابہہ ہے۔وَيُشَابِهُ السَّفِينَةَ مواهب الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۶۸) (ترجمه از مرتب) کسی الہام کے خدا کی طرف سے ہونے اور دخل شیطان سے پاک ہونے کا۔۔۔۔۔۔معیار یہی ہے کہ اس کے ساتھ نصرت الہی ہو اور اقتداری علم غیب ہو اور قاہر پیشگوئی اس کے ساتھ ہو ورنہ وہ فضول باتیں ہیں جو نافع الناس نہیں ہوسکتیں۔الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۸۹۹ ء صفحه ۴) خدا کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ پر شوکت اور لذیذ ہوتی ہے۔دل پر ایک ٹھوکر مارنے والی ہوتی ہے وہ خدا کی انگلیوں سے نکلی ہوئی ہوتی ہے۔اس کے ہم وزن کوئی نہیں وہ فولاد کی طرح میر نے والی ہوتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۹) جو متقی ہے اسی کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں ان میں شیطان کا حصہ ہو سکتا ہے۔کسی کے تقویٰ کو اس کے ملہم ہونے سے نہ پہچانو بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالتِ تقومی سے جانچو اور اندازہ کرو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ / جون ۱۹۰۱ صفحه ۱۰) ہم ہر آواز کو خدا تعالی کی آواز قرار نہیں دے سکتے جب تک اس کے ساتھ وہ انوار اور برکات نہ ہوں جو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کے ساتھ ہوتے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۳) الہام میں دخل شیطانی بھی ہوتا ہے جیسے کہ قرآن شریف سے بھی ظاہر ہے مگر جو شخص شیطان کے اثر کے نیچے ہوا سے نصرت نہیں ملا کرتی نصرت اسے ہی ملا کرتی ہے جو رحمان کے زیر سایہ ہو۔البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۵ء صفحه ۴) الہام الہی کی عبارت عموما منتفی ہوتی ہے اور اس میں ایک شوکت ہوتی ہے اور اس میں سے کلام الہی کی بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۷ /جون ۱۹۰۶ء صفحه ۳) ایک خوشبو آتی ہے۔میرا مذہب تو یہ ہے کہ جب تک درخشاں نشان اس کے ساتھ بار بار نہ لگائے جاویں تب تک الہامات کا نام لینا بھی سخت گناہ اور حرام ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ قرآن مجید اور میرے الہامات کے خلاف تو نہیں۔اگر ہے تو یقیناً خدا کا نہیں بلکہ شیطانی القاء ہے۔(البدر جلد ۶ نمبر ۷ مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۸) جب تک کسی الہام پر خدا کی مہر نہ ہو وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا۔دیکھو قرآن شریف کو عربوں جیسے اشد