تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 169

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۹ سورة الشورى شیطانی ہے یا حدیث النفس ہے یا شکی ہے یا ظنی ہے بلکہ ہر دم اس کی روح بولتی ہے کہ یہ یقینی ہے اور خدا کا کلام ہے۔(۲) دوسرے خدا کے الہام میں ایک خارق عادت شوکت ہوتی ہے (۳) تیسری وہ پر زور آواز اور قوت سے نازل ہوتا ہے (۴) چوتھی اس میں ایک لذت ہوتی ہے (۵) اکثر اس میں سلسلہ سوال وجواب پیدا ہو جاتا ہے۔بندہ سوال کرتا ہے خدا جواب دیتا ہے اور پھر بندہ سوال کرتا خدا جواب دیتا ہے۔خدا کا جواب پانے کے وقت بندہ پر ایک غنودگی طاری ہوتی ہے لیکن صرف غنودگی کی حالت میں کوئی کلام زبان پر جاری ہونا وحی الہی کی قطعی دلیل نہیں کیونکہ اس طرح پر شیطانی الہام بھی ہوسکتا ہے (۶) چھٹی وہ الہام کبھی ایسی زبانوں میں بھی ہو جاتا ہے جن کا ملہم کو کچھ بھی علم نہیں۔(۷) خدائی الہام میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔اول وہ کشش ملہم کو عالم تفرید اور انقطاع کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور آخر اس کا اثر بڑھتا بڑھتا طبائع سلیمہ مبائعین پر جا پڑتا ہے تب ایک دنیا اس کی طرف کھینچی جاتی ہے اور بہت سی روحیں اس کے رنگ میں بقدر استعداد آجاتی ہیں (۸) آٹھویں سچا الہام غلطیوں سے نجات دیتا اور بطور حکم کے کام کرتا ہے اور قرآن شریف کے کسی کلام بیان میں مخالف نہیں ہوتا۔(۹) بچے الہام کی پیشگوئی فی حد ذاتہ سچی ہوتی ہے۔گواس کے سمجھنے میں لوگوں کو دھوکا ہو۔(۱۰) دسویں سچا الہام تقویٰ کو بڑھا تا اور اخلاقی قوتوں کو زیادہ کرتا اور دنیا سے دل برداشتہ کرتا اور معاصی سے متنفر کر دیتا ہے (۱۱) سچا الہام چونکہ خدا کا قول ہے اس لئے وہ اپنی تائید کے لئے خدا کے فعل کو ساتھ لاتا ہے اور اکثر بزرگ پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سچی نکلتی ہیں اور قول اور فعل دونوں کی آمیزش سے یقین کے دریا جاری ہو جاتے ہیں اور انسان سفلی زندگی سے منقطع ہو کر ملکوتی صفات نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۹۲، ۴۹۳) بن جاتا ہے۔وَإِذَا جَاءَ فِي الْوَحْنُ بِكَمَالِهِ، جب وحی میرے پاس اپنے پورے کمال کے ساتھ آئی وَ كَشَفَ الدُّجى بِجَمَالِهِ، قُلْتُ يَا وَخی اور اس نے اپنے جمال کے ساتھ ہر قسم کی تاریکی کو دور کر دیا تو رَبّى أَهْلًا وَسَهْلًا رَحُبّ وَادِيك میں نے کہا اے میرے رب کی وحی تجھے خوش آمدید کہتا ہوں۔وعزّ نَادِيكَ أَنتَ الَّذِي يَهَبُ تیرے فیضان کی وادی وسیع ہو اور تیری مجلس با عزت ہو۔تو وہ لِلْعُيِي الْعُيُونَ، وَلِلصُّمِ الْكَلَام ہے جو اندھوں کو آنکھیں بخشتی اور بہروں کو کلام موزوں عطا کرتی الْمَوْزُونَ، وَيُحْيِي الْأَمْوَاتَ، وَيُرِی ہے اور مُردوں کو زندہ کرتی اور نشانات دکھاتی ہے۔تو وہ ہے جو الْآيَاتِ۔أَنْتَ الَّذِي يُصْبِي الْقُلُوبَ دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔گھبراہٹوں کو دُور کرتی اور دلوں