تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 163
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۳ سورة الشورى وجی دو قسم کی ہے وحی الابتلاء اور وحی الاصطفاء۔وحی الابتلاء بعض اوقات موجب ہلاکت ہو جاتی ہے جیسا کہ بلعم اسی وجہ سے ہلاک ہوا مگر صاحب وحی الاصطفاء کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱) وحی کی اقسام ثلاثہ میں سے اکمل اور اتم وہ وحی ہے جو علم کی تیسری قسم میں داخل ہے جس کا پانے والا انوار سبحانی میں سرا پا غرق ہوتا ہے اور وہ تیسری قسم حق الیقین کے نام سے موسوم ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰) رحمانی الہام اور وحی کے لئے اوّل شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اُس میں نہ رہے کیونکہ جہاں مردار ہے ضرور ہے کہ وہاں کتے بھی جمع ہو جائیں۔الهام کشف یا رویا تین قسم کے ہوتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۲) (۱) اوّل وہ جو خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ ایسے شخصوں پر نازل ہوتے ہیں جن کا تزکیہ نفس کامل طور پر ہو چکا ہوتا ہے اور وہ بہت سی موتوں اور محویت نفس کے بعد حاصل ہوا کرتا ہے اور ایسا شخص جذبات نفسانیہ سے بکلی الگ ہوتا ہے اور اس پر ایک ایسی موت وارد ہو جاتی ہے جو اس کی تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دور ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو شخص جس کے نزدیک ہوتا ہے اس کی آواز سنتا ہے۔(۲) دوسرے حدیث النفس ہوتا ہے جس میں انسان کی اپنی تمنا ہوتی ہے اور انسان کے اپنے خیالات اور آرزؤں کا اس میں بہت دخل ہوتا ہے اور جیسے مثل مشہور ہے بلی کو چھیچھڑوں کی خوا ہیں، وہی باتیں دکھائی دیتی ہیں جن کا انسان اپنے دل میں پہلے ہی سے خیال رکھتا ہے اور جیسے بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے ہیں تو رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے یہی حال حدیث النفس کا ہے۔(۳) تیسرے شیطانی الہام ہوتے ہیں۔ان میں شیطان عجیب طرح کے دھوکے دیتا ہے کبھی سنہری تخت دکھاتا ہے اور کبھی عجیب و غریب نظارے دکھا کر طرح طرح کے خوش گن وعدے دیتا ہے۔الحکم جلد نمبر ۴۱ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۲) جس پر کوئی کلام نازل ہو جب تک تین علامتیں اس میں نہ پائی جائیں اُس کو خدا کا کلام کہنا اپنے تئیں