تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 162
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۲ سورة الشورى اگر الہامات میں کسی نا واقف اور ناخواندہ کے الہامی فقروں میں نحوی صرفی غلطی ہو جائے تو نفس الہام قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔یہ ادنی درجہ کا الہام کہلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کے نور کی پوری تحلی سے رنگ پذیر نہیں ہوتا کیونکہ الہام تین طبقوں کا ہوتا ہے ادنیٰ اور اوسط اور اعلیٰ۔ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۹) اگر ایک کلام انسان سنے یعنی ایک آواز اُس کے دل پر پہنچے اور اس کی زبان پر جاری ہو اور اس کو شبہ باقی رہ جاوے کہ شاید یہ شیطانی آواز ہے یا حدیث النفس ہے تو درحقیقت وہ شیطانی آواز ہوگی یا حدیث النفس ہوگی کیونکہ خدا کا کلام جس قوت اور برکت اور روشنی اور تاثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے خود یقین دلا دیتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۴) تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے اور انسان کی یہ زندگی جو شکوک اور شبہات سے بھری ہوئی ہے بجز مکالمات الہیہ کے سرچشمہ صافیہ کے یقین تک ہر گز نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے جو یقینی اور قطعی ہو جس پر ایک ملہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوا اور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسماعیل سے اور پھر یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف سے اور پھر چارسو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یسوع بن نون سے ہوا اور پھر داؤد سے ہوا اور سلیمان سے اور ایسیع نہبی سے اور دانیال سے اور اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں عیسی بن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کمتر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربانی۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۸۶) یہ نقطہ خوب توجہ سے یا درکھنے کے لائق ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ضعیف الاثر ہوں جو ملہم پر مشتبہ رہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔وہ در حقیقت شیطان کی طرف سے ہی ہوتے ہیں یا شیطان کی آمیزش سے۔اور گمراہ ہے وہ شخص جو ان پر بھروسہ کرتا ہے اور بد بخت ہے وہ شخص جو اس خطرناک ابتلا میں ماخوذ ہے کیونکہ شیطان اس سے بازی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو ہلاک کرے۔نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۹۲)