تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 161
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶ سورة الشورى رسول کے اجتہاد میں دخل دیتا ہے پھر وحی متلو اس دخل کو اٹھا دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے بعض اجتہادات میں غلطی بھی ہو گئی ہے جو بعد میں رفع کی گئی۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۳) قرآن کریم وحی متلو ہے اور اس کے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں وہ اہتمام بلیغ کیا گیا ہے کہ احادیث الحق مباحث الدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۲، ۱۳) کے اہتمام کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ہر یک ملہم میں اللہ کو تین قسم کے الہام ہوتے ہیں ایک واجب التبلیغ دوسرے وہ الہام جن کے اظہار اور عدم اظہار میں ملہم لوگ اختیار دیے جاتے ہیں اگر مصلحت اظہار کی سمجھیں تو اظہار کر دیں ورنہ پوشیدہ رکھیں تیسری قسم الہام کی وہ ہے جن کے اظہار سے ملہم لوگ منع کئے جاتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۱۶ حاشیه ) الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لئے بطور استخارہ و استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اُس وقت اُس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے مگر وہ بلا توقف (ازالہ اوبام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۹) نکالا جاتا ہے۔إِنَّ الْوَحْيَ كَمَا يَنْزِلُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ كَذلِكَ | وجی جیسے انبیاء پر نازل ہوتی ہے ویسے ہی وہ اولیاء يَنزِلُ عَلَى الْأَوْلِيَاءِ وَلَا فَرْقَ فِي نُزُولِ الْوَخي پر نازل ہوتی ہے اور نبی اور ولی پر وحی کے نزول میں بَيْنَ أَنْ يَكُون إِلى نَبِي أَوْ وَلِي وَلِكُلّ حَظِّ مِن کوئی فرق نہیں ہوتا ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالی کے مُكَالْمَاتِ اللهِ تَعَالَى وَمُخَاطَبَاتَه عَلى حَسَبِ مكالمات اور مخاطبات سے علی حسب المدارج حصہ ملتا الْمَدَارِجِ نَعَمْ لِوَحْيِي الْأَنْبِيَاءِ شَأْنْ أَتَم ہے ہاں انبیاء کی وحی کو ایک شان اتم اور اکمل حاصل ہوتی وَأَكْمَلُ وَأَقْوَى أَقْسَامِ الْوَخي وخی ہے اور وحی کی اقسام میں سے زیادہ قوی وہ وہی ہے جو ہمارے نبی خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل رَسُولِنَا خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔(تحفة بغداد، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۲۸،۲۷ حاشیہ) ہوئی۔(ترجمہ از مرتب)