تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 154

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۴ سورة الشورى کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لز و نا غلطی سے بیچ سکیں۔یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے۔اور صد با طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور لکھی باتیں اپنی نادانی کے یادگار میں چھوڑ گئے۔پس اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اپنی ہی تحقیقات سے جمیع امور حقہ اور عقائد صحیحہ پر پہنچ جانا اور کہیں غلطی نہ کرنا ایک محال عادی ہے۔کیونکہ آج تک ہم نے کوئی فرد بشر ایسا نہیں دیکھا اور نہ سنا اور نہ کسی تاریخی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ جو اپنی تمام نظر اور فکر میں سہو اور خطا سے معصوم ہو۔پس بذریعہ قیاس استقرائی کے یہ بیج اور سانتیجہ نکلتا ہے کہ وجود ایسے اشخاص کا کہ جنہوں نے صرف قانون قدرت میں فکر اور غور کر کے اور اپنے ذخیرہ کانشنس کو واقعات عالم سے مطابقت دے کر اپنی تحقیقات کو ایسے اعلی پایہ صداقت پر پہنچادیا ہو کہ جس میں غلطی کا نکلنا غیر ممکن ہو۔خود عادتاً غیر ممکن ہو۔۔۔۔۔صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی سے بیچ سکے اور نہ خدا ( جو رحیم اور کریم اور ہر ایک سہود خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت پر واقف ہے ) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیوں کر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں اور کیوں کر آفات شک وشبہ سے نجات پائیں۔لہذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضاء حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتا فوقتا جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاق صحیحہ کے معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پائیں اور تفہیم تعلیم کا ملکہ وہی رکھیں تا کہ نفوس بشر یہ کہ کچی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہیں۔پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۱،۲۰) انسان ہمیشہ چشم دید ماجرا اور ذاتی بصیرت کا محتاج ہے۔مذہب اسی زمانہ تک علم کے رنگ میں رہ سکتا ہے جب تک خدا تعالیٰ کی صفات ہمیشہ تازہ بتازہ تجلی فرماتی رہیں ورنہ کہانیوں کی صورت میں ہو کر جلد مرجاتا ہ ہے۔کیا ایسی ناکامی کو کوئی انسانی کانشنس قبول کر سکتا ہے۔جب کہ ہم اپنے اندر اس بات کا احساس پاتے ہیں کہ ہم اس معرفت تامہ کے محتاج ہیں جو کسی طرح بغیر مکالمہ الہیہ اور بڑے بڑے نشانوں کے پوری نہیں ہو سکتی تو کس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت ہم پر الہامات کا دروازہ بند کر سکتی ہے۔کیا اس زمانہ میں ہمارے دل اور ہو گئے ہیں یا خدا اور ہو گیا ہے۔یہ تو ہم نے مانا اور قبول کیا کہ ایک زمانہ میں ایک کا الہام لاکھوں کی