تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 150

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۰ سورة الشورى کہ یہ وحی خدا کی طرف سے ہے تو وہ کبھی قتل نہ کرتا اور اگر موسیٰ کی ماں کو یقین نہ ہوتا کہ اس کی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو کبھی اپنے بچہ کو دریا میں نہ ڈالتی۔اب ظاہر ہے کہ ایسا الہام کس طرح فخر کے لائق ہو سکتا اور کس طرح اس کے ضرر سے انسان امن میں رہ سکتا ہے جس کی نسبت کبھی تو اس کا یہ خیال ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کبھی یہ خیال ہے کہ شیطان کی طرف سے ہے۔ایسا الہام تو آفت جان اور آفتِ ایمان ہے بلکہ ایک بلا ہے جس سے کبھی نہ کبھی وہ ہلاک ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ اپنے ان بندوں کو جو تعلقات نفس امارہ سے الگ ہو کر محض اس کے ہو جاتے ہیں اور اُس کی محبت کی آگ سے تمام ماسوا اللہ کو جلا دیتے ہیں وہ اپنے ایسے بندوں کو شیطان کے پنجہ میں گرفتار کرے۔اور سچ تو یہ ہے کہ جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے اسی طرح شیطانی وساوس اور خدا تعالی کی پاک وحی میں فرق ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۱۰،۳۰۹) الہام کچھ شئے نہیں جب تک کہ انسان اپنے تئیں شیطان کے دخل سے پاک نہ کرلے اور بے جا تعصبوں اور کینوں اور حسدوں سے اور ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے اپنے آپ کو صاف نہ کر لے۔(احکم جلد ۵ نمبر ۱۸ مورخه ۱۷ارمئی ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳) اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ رویا اور الہام پر مدار صلاحیت نہیں رکھنا چاہیے۔بہت سے آدمی دیکھے گئے ہیں کہ ان کو رؤیا اور الہام ہوتے رہے لیکن انجام اچھا نہیں ہوا جو اعمالِ صالحہ کی صلاحیت پر موقوف ہے۔اس تنگ دروازہ سے جو صدق و وفا کا دروازہ ہے گزرنا آسان نہیں۔ہم بھی ان باتوں سے فخر نہیں کر سکتے کہ رویا یا الہام ہونے لگے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہیں اور مجاہدات سے دستکش ہور ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔( البدر جلد ۳ نمبر ۱۹،۱۸ مورخه ۸ و ۱۶ رمئی ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۰) محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں۔دیکھو جب کفار کی طرف سے اعتراض ہو لَسْتَ مُرْسَلًا (الرعد: (۴۴) تو جواب دیا گیا کفی بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ (الرعد : ۴۴) یعنی عنقریب خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت میری صداقت کو ثابت کر دے گی پس الہام کے ساتھ فعلی شہادت بھی چاہیے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۱/۲۵ پریل ۱۹۰۷ صفحہ ۹) الہام وحی تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے کوئی انسانی عمل نہیں۔خدا کے فعل پر اپنا فخر جاننا اور خوش ہونا جاہل کا کام ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ بعض دفعہ رات کو اس قدر عبادت میں کھڑے ہوتے