تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 149

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۹ سورة الشورى کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنی توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکہ اور مد بینہ اور دیا رشام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صرف ونحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گزر چکا ہو۔پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے۔( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۶) مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے اس قسم کے کلمات مراد نہیں ہیں جن کی نسبت خود علم متردد ہو کہ آیا وہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ایسے بے برکت کلمات جن میں شیطان بھی شریک ہوسکتا ہے شیطانی ہی سمجھنے چاہئیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے روشن اور بابرکت اور لذیذ کلمات شیطان کے کلمات سے مشابہ نہیں ہو سکتے اور جن دلوں میں باعث طہارت کا ملہ شیطان کا کچھ حصہ نہیں رہتا اُن کی وحی میں بھی شیطان کا کچھ حصہ نہیں رہتا اور شیطان انہیں نجس دلوں پر اُترتا ہے جو شیطان کی طرح اپنے اندر ناپاکی رکھتے ہیں۔پاک نفسوں پر پاک کا کلام نازل ہوتا ہے اور پلید نفسوں پر پلید کا۔اور اگر ایک انسان اپنے الہام میں متحیر ہے اور نہیں جانتا کہ وہ شیطان کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے۔ایسے شخص کا الہام اُس کے لئے آفت جان ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس الہام کی بنا پرکسی نیک کو بد قرار دے حالانکہ وہ الہام شیطان کی طرف سے ہوا اور ممکن ہے کہ کسی بد کونیک قرار دے حالانکہ وہ سراسر شیطانی تعلیم ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک امر کو جو الہام کے ذریعہ سے اس کو معلوم ہوا ہے خدا کا امر سمجھ کر بجالا وے حالانکہ وہ شیطان نے حکم دیا ہو۔اور اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک حکم شیطان کا محکم سمجھ کر ترک کر دے حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کا حکم ہو۔صاف ظاہر ہے کہ بجز ایک قطعی فیصلہ کے یعنی بجز اس امر کے کہ دل اس یقین سے پر ہو کہ درحقیقت یہ خدا کا حکم ہے اس کے کرنے کے لئے پوری استقامت حاصل نہیں ہو سکتی خصوصاً بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ ظاہر شرع کو اُن پر کچھ اعتراض بھی ہوتا ہے جیسا کہ خضر کے کام پر ظاہر شرع کو سرا پا اعتراض تھا۔نبیوں کی تمام شریعتوں میں سے کسی شریعت میں یہ حکم نہیں کہ ایک بے گناہ بچہ کوقتل کر دو۔پس اگر خضر کو یہ یقین نہ ہوتا