تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 140
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۰ سورة الشورى بھی داخل ہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ الہام اور وحی اور رویا اور کشف پر اکثر استعارات غالب ہوتے ہیں۔مثلاً دو چار سو آدمی جمع کر کے اُن کی خوا ہیں سنو تو اکثر اُن میں استعارات ہوں گے۔کسی نے سانپ دیکھا ہوگا اور کسی نے بھیڑیا اور کسی نے سیلاب اور کسی نے باغ اور کسی نے پھل اور کسی نے آگ اور تمام یہ امور قابل تاویل ہوں گے۔حدیثوں میں ہے کہ قبر میں عمل صالح اور غیر صالح انسان کی صورت پر دکھائی دیتے ہیں۔سو یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس سے تمام تناقض دور ہوتے ہیں اور حقیقت کھلتی ہے۔مبارک وہ جو اس ہے۔میں غور کریں۔امام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۷۷) جابجا مفسروں نے وحی کے لفظ کو الہام ہی سے تعبیر کیا ہے۔کئی احادیث میں بھی یہی معنے ملتے ہیں۔۔۔۔سواد اعظم علماء کا الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو استعمال کیا ہے تو پھر اس سے انحراف کرنا صریح تحکم ہے۔۔۔علم شریعت میں اسی طرح صد با عرفی الفاظ ہیں جن کے مفہوم کو لغوی معنوں میں محدود کرنا ایک ضلالت ہے۔خود وحی کے لفظ کو دیکھئے کہ اس کے وہ معنے جن کی رُو سے خدا کی کتابیں وحی رسالت کہلاتی ہیں کہاں لغت سے ثابت ہوتے ہیں اور کس کتاب لغت میں وہ کیفیت نزول وحی لکھی ہے جس کیفیت سے خدا اپنے مرسلوں سے کلام کرتا ہے اور ان پر اپنے احکام نازل کرتا ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۷۷ حاشیه در حاشیہ نمبر۱) الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تردد اور تفکر اور تد بر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس سے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ، - ہو محسوس ہوتا ہے اور اس سے نفس کو مشل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہنچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلا تکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے ویسا ہی روح کو الہام سے ایک ازلی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے روح لذت اٹھاتا ہے۔غرض یہ ایک منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفث فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۰) الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۹،۴۳۸) الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالا جاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی