تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xvi of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xvi

صفحہ ۱۸۷ ۱۲۰ ۱۹۰ ۱۹۱ ۱۹۱ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۵ ۱۹۷ ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ XV مضمون کفار کے اعتراض کا جواب کہ قرآن مکہ و طائف میں سے کسی رئیس اور دولتمند پر کیوں نازل نہ ہوا تا اس کی رئیسانہ شان، رعب سیاست اور مال کے خرچ سے جلد تر دین پھیل جاتا سنت اللہ کہ برگزیدہ لوگ ورطه عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں اس کاستر قرآن کو دستاویز پکڑو اور اسی کو مقدم رکھو إنَّه لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ کے یہ معنے ہیں کہ یہودیوں کے ادبار اور ذلت کی نشانی مسیح کے آنے کا وقت تھا إنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرنَ بِهَا کو حضرت عیسی کے نزول سے کچھ بھی تعلق نہیں اللہ تعالی نے مسیح کے متعلق وَ إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ کہا ہے یہ نہیں کہ اِنَّهُ سَيَكُونُ عِلْمًا لِلسَّاعَةِ آیت إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ میں انگہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسی کے بعد طیطوس رومی نمبر شمار 119 ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ کے ہاتھ سے یہود پر نازل ہوا تھا ۱۲۷ اصل قیامت کا علم تو سوائے خدا کے اور کسی کو بھی نہیں ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ سنت اللہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور نبی لیلتہ القدر میں نازل ہوتے ہیں إنَّا اَنْزَلْنَهُ في لَيْلَةٍ مُبرَكة میں برکت والی رات سے مراد ١٣٠ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ میں دخان سے مراد