تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 122
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۲ سورة الشورى ہیں؟ ذرا بچہ یا بیوی بیمار ہو جاوے تو کچھ نہیں بنتا اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جاوے۔مگر خدا تعالیٰ چاہے تو شفادے سکتا ہے حالانکہ وجودی کے اختیار میں یہ امر نہیں ہے۔بعض وقت مالی ضعف اور افلاس ستاتا ہے بعض وقت گناہ اور فسق و فجور بے ذوقی اور بے شوقی کا موجب ہو جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کے شامل حال بھی یہ امور ہوتے ہیں؟ اگر خدا ہے تو پھر اس کے سارے کام کُن فیکون سے ہونے چاہیں حالانکہ یہ قدم قدم پر عاجز اور محتاج ٹھوکریں کھاتا ہے۔افسوس وجودی کی حالت پر کہ خدا بھی بنا پھر اس سے کچھ نہ ہوا۔پھر عجب تر یہ ہے کہ یہ خدائی اس کو دوزخ سے ہیں بچا سکتی۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًا ترة ( الزلزال : ٩ ) پس جب کوئی گناہ کیا تو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جہنم میں جانا پڑا اور ساری خدائی باطل ہو گئی۔وجودی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ في الشعير جب کہ وہاں بھی انسانیت کے مجسم بنے رہے، تو پھر ایسی فضول بات کی حاجت ہی کیا ہے جس کا کوئی نتیجہ اور اثر ظاہر نہ ہوا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۳) اگر کوئی کہے کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور یہاں ہی دوزخ بہشت ہوگا ہم نہیں مان سکتے۔اس کی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : (۴) کے خلاف ہے اور اس کے خلاف جا ٹھہرتا ہے فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۶) الشعير قیامت کی خبر سنا" کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔) اس سے مراد یہ ہے کہ دینداروں کی فتح ہوگی اور دشمنوں کو ذلت کیونکہ قیامت کو بھی یہی ہونا ہے۔قرآن شریف میں ہے فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ اسی دن ہوگا۔دُنیا کی رنگارنگ کی وبائیں بھی البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۸) مامور کا زمانہ بھی ایک قیامت ہے۔جیسے لوگ یوم جزاء کے دن دو فریقوں میں تقسیم ہو جاویں گے یعنی فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ في السعیر ایسے ہی مامور کی بعثت کے وقت بھی دو فریق ہو جاتے ہیں۔قیامت ہی ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۲۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳) قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِتُنْذِرَ أَم القری ہم نے قرآن کو عربی زبان میں بھیجا تا تو اس شہر کو ڈراوے جو تمام آبادیوں کی ماں ہے اور ان آبادیوں کو جو اس کے گرد ہیں یعنی تمام دنیا کو۔(منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۸۳) و إِنَّ فِيهَا مَدْحَ الْقُرْآنِ وَعَرَبي اس میں قرآن کی مدح اور عربی کی مدح ہے پس وَ