تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 121
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۱۲۱ سورة الشورى بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الشّورى بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَظَرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَالْمَلَيكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ، أَلَا إِنَّ اللهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ) يَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ یعنی خدا کے فرشتے گل اہل زمین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔اب اگر استغفار کے لئے گناہ کا ہونا ضروری ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح بھی بے گناہ نہ تھے کیونکہ وہ بھی اہل زمین میں شامل ہیں جن کے لئے فرشتے استغفار کرتے ہیں۔ریویو آف ریلجنز جلد ۲ نمبر ۶ صفحه ۲۴۶) وَ كَذلِكَ اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِتُنْذِرَ أَمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْع لَا رَيْبَ فِيهِ فَرِيقٌ فِى الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِى السّعِيرِ ) جن لوگوں میں تقویٰ اور ادب ہے اور جنہوں نے لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ پر قدم مارا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ وجودی نے جو قدم مارا ہے وہ حد ادب سے بڑھ کر ہے۔بیسیوں کتابیں ان لوگوں نے لکھی ہیں، مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی وجودی اس بات کا جواب دے سکتا ہے کہ واقعی وجودی میں خدا ہے یا تصور ہے؟ اگر خدا ہی ہے۔تو کیا یہ ضعف اور یہ کمزوریاں جو آئے دن عائد حال رہتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی صفات