تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 116
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٦ سورة حم السجدة مطہر دلوں میں جو شیطانی خیالات سے پاک کئے گئے ہیں، انسان کی پاک فطرت اور خالق کی پاک مرضی کے موافق پاک خواہشیں پیدا ہوں گی۔تا انسان اپنی ظاہری اور باطنی اور بدنی اور روحانی سعادت کو پورے پورے طور پر پالیوے اور اپنے جمیع قومی کے کامل ظہور سے کامل انسان کہلاوے کیونکہ بہشت میں داخل کرنا انسانی نقش کے مٹا دینے کی غرض سے نہیں جیسا کہ ہمارے مخالف عیسائی و آر یہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس غرض سے ہے کہ تا انسانی فطرت کے نقوش ظاہر و باطناً بطور کامل چمکیں اور سب بے اعتدالیاں دور ہو کر ٹھیک ٹھیک وہ امور جلوہ نما ہو جائیں جو انسان کے لئے بلحاظ ظاہری و باطنی خلقت اس کی کے ضروری ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۷۹ تا ۴۸۱ حاشیه ) وَلَا تَسْتَوَى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ۳۵ جو شخص شرارت سے کچھ یاوہ گوئی کرے تو تم نیک طریق سے صلح کاری کا اس کو جواب دو تب اس خصلت سے دشمن بھی دوست ہو جائے گا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۹) اگر کوئی تجھ سے نیکی کرے تو تو اس سے زیادہ نیکی کر اور اگر تو ایسا کرے گا تو ما بین تمہارے اگر کوئی عداوت بھی ہوگی تو وہ ایسی دوستی سے بدل جائے گی کہ گویا وہ شخص ایک دوست بھی ہے اور رشتہ دار بھی۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۶) ی تعلیم اس لئے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو وہ اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جاوے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ ٹن لے۔یکچر لدھیانه، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۷۵) تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔تُجب ، خُود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے۔اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ادفع بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اب خیال فرمائیے یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ صبر کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ تمہاری فضیلت کا قائل ہوکر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہوگی جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک ذرا