تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 112
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۲ ہے۔ضرور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مورد مخاطبہ و مکالمہ الہی انبیاء کی طرح ہوگا۔سورة حم السجدة رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۲) سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستہاز پیدا ہوتے ہیں جو محدث کے درجہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالیٰ آمنے سامنے کلام کرے اور اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اوّل نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہو پیدا ہوتے ہیں۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا سوى معیار حقیقی بچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف صرف اسلام میں ہے دوسرے مذاہب اس روشنی سے بے نصیب ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ صفحه ۴) جو اللہ تعالیٰ کی طرف آجاتے ہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہی راستہ پر نہیں آتے بلکہ اس صراط مستقیم پر استقامت بھی دکھلاتے ہیں۔نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ تطہیر وتنویر قلوب کی منزلیں طے کر لیتے ہیں اور بعد انشراح صدر کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص نعمتوں سے متمتع فرماتا ہے۔محبت و ذوق الہی ان کی غذا ہو جاتی ہے۔مکالمہ الہی ، وحی، الہام و کشف وغیرہ انعامات الہی سے مشرف و بہرمند کئے جاتے ہیں۔درگاہ رب العزت سے طمانیت و سکویت ان پر اترتی ہے۔خون و مایوسی اُن کے نزدیک تک نہیں پھٹکتی۔ہر وقت جذبہ محبت و ولولہ عشق انہی میں سرشار رہتے ہیں گویا لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الاحقاف : ۱۴) کے پورے مصداق ہو جاتے ہیں۔مَا دَر مَا قَالَ کلید ایں ہمہ دولت محبت است ووفا خوشا کسیکه چنیں دولتش عطا باشد غرض استقامت بڑی چیز ہے۔استقامت ہی کی بدولت تمام گروہ انبیاء ہمیشہ مظفر ومنصور و با مراد ہوتا چلا آیا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۵۳) الہام یعنی وحی الہی ایسی شے ہے کہ جب تک خدا سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لئے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ یه اس امر کی طرف اشارہ ہے۔نزول وحی کا صرف ان کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔البدر جلد ۴ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۲)