تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 109

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+9 سورة حم السجدة نام الہام ہے تو پھر ایک بدمعاش شاعر جور است بازی اور راست بازوں کا دشمن اور ہمیشہ حق کی مخالفت کے لئے قلم اٹھاتا اور افتراؤں سے کام لیتا ہے خدا کا مہم کہلائے گا۔دنیا میں ناولوں وغیرہ میں جادو بیانیاں پائی جاتی ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ اس طرح سراسر باطل مگر مسلسل مضمون لوگوں کے دلوں میں پڑتے ہیں۔پس کیا ہم ان کو الہام کہہ سکتے ہیں؟ بلکہ اگر الہام صرف دل میں بعض باتیں پڑ جانے کا نام ہے تو ایک چور بھی ملہم کہلا سکتا ہے کیونکہ وہ بسا اوقات فکر کر کے اچھے اچھے طریق نقب زنی کے نکال لیتا ہے اور عمدہ عمدہ تدبیریں ڈا کہ مارنے اور خون ناحق کرنے کی اس کے دل میں گزر جاتی ہیں تو کیا لائق ہے کہ ہم ان تمام نا پاک طریقوں کا نام الہام رکھ دیں؟ ہر گز نہیں۔بلکہ یہ ان لوگوں کا خیال ہے جن کو اب تک اس بچے خدا کی خبر نہیں جو آپ خاص مکالمہ سے دلوں کو تسلی دیتا اور نا واقفوں کو روحانی علوم سے معرفت بخشتا ہے۔الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔سوجب یہ مکالمہ اور مخاطبہ کافی اور تسلی بخش سلسلہ کے ساتھ شروع ہو جائے اور اس میں خیالات فاسدہ کی تاریکی نہ ہو اور نہ غیر متفی اور چند بے سر و پا لفظ ہوں اور کلام لذیذ اور پر حکمت اور پر شوکت ہو تو وہ خدا کا کلام ہے جس سے وہ اپنے بندہ کو تسلی دینا چاہتا ہے اور اپنے تئیں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ہاں کبھی ایک کلام محض امتحان کے طور پر ہوتا ہے اور پورا اور بابرکت سامان ساتھ نہیں رکھتا۔اس میں خدا تعالیٰ کے بندہ کو اس کی ابتدائی حالت میں آزمایا جاتا ہے تا وہ ایک ذرہ الہام کا مزہ چکھ کر پھر واقعی طور پر اپنا حال و قال سچے مسلموں کی طرح بنا دے یا ٹھوکر کھا دے۔پس اگر وہ حقیقی راستبازی صدیقوں کی طرح اختیار نہیں کرتا تو اس نعمت کے کمال سے محروم رہ جاتا ہے اور صرف بیہودہ لاف زنی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔کروڑ ہا نیک بندوں کو الہام ہوتا رہا ہے مگر ان کا مرتبہ خدا کے نزدیک ایک درجہ کا نہیں بلکہ خدا کے پاک نبی جو پہلے درجہ پر کمال صفائی سے خدا کا الہام پانے والے ہیں وہ بھی مرتبہ میں برابر نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۷ تا ۴۳۹) جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر استقامت اختیار کرتے ہیں فرشتے ان کو بشارت کے الہامات سناتے رہتے ہیں اور ان کو تسلی دیتے رہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو بذریعہ الہام تسلی دی گئی۔لیکن قرآن ظاہر کر رہا ہے کہ اس قسم کے الہامات یا خوا ہیں عام مومنوں کے لئے ایک روحانی نعمت