تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 102
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۰۲ سورة حم السجدة ( ان آیات میں ) اس بات کی تصریح ہے کہ خدا نے جمعرات اور جمعہ کے دن سات آسمان بنائے اور ہر ایک آسمان کے ساکن کو جو اس آسمان میں رہتا تھا اس آسمان کے متعلق جو امر تھا وہ اس کو سمجھا دیا اور ورلے آسمان کو ستاروں کی قندیلیوں سے سجایا اور نیز اُن ستاروں کو اس لئے پیدا کیا کہ بہت سے امور حفاظت دنیا کے ان پر موقوف تھے۔یہ اندازے اُس خدا کے باندھے ہوئے ہیں جو ز بر دست اور دانا ہے۔۔۔۔۔ان آیات سے معلوم ہوا کہ آسمانوں کو سات بنانا اور ان کے درمیانی امور کا انتظام کرنا یہ تمام امور باقی ماندہ دوروز میں وقوع میں آئے یعنی جمعرات اور جمعہ میں۔اور پہلی آیات جن کو ابھی ہم لکھ چکے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم کا پیدا کرنا آسمانوں کے سات طبقے بنانے کے بعد اور ہر ایک زمینی آسمانی انتظام کے بعد غرض کل مجموعہ عالم کی طیاری کے بعد ظہور میں آیا اور چونکہ یہ تمام کاروبار صرف جمعرات کو ختم نہیں ہوا بلکہ کچھ حصہ جمعہ کا بھی اُس نے لیا جیسا کہ آیت فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ فِي يَوْمَيْنِ سے ظاہر ہے۔یعنی خدا نے اس آیت میں فی یوم نہیں فرمایا بلکہ یومین فرمایا۔اس سے یقینی طور پر سمجھا گیا کہ جمعہ کا پہلا حصہ آسمانوں کے في يَوْمٍ بنانے اور ان کے اندرونی انتظام میں صرف ہوا لہذا بنص صریح اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ آدم جمعہ کے آخری حصہ میں پیدا کیا گیا۔اور اگر یہ شبہ دامنگیر ہو کہ ممکن ہے کہ آدم ساتویں دن پیدا کیا گیا ہو تو اس شہر کو یہ آیت دُور فرماتی ہے جو سورۃ حدید کی چوتھی آیت ہے اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ( الحديد : ۵) ( دیکھو سورة الحديد الجز نمبر ۲۷) ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ خدا وہ ہے جس نے تمام زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔پھر عرش پر اُس نے استوا کیا۔یعنی کل مخلوق کو چھ دن میں پیدا کر کے پھر صفات عدل اور تم کو ظہور میں لانے لگا۔خدا کا الوہیت کے تخت پر بیٹھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کے بنانے کے بعد ہر ایک مخلوق سے بمقتضائے عدل اور رحم اور سیاست کارروائی شروع کی یہ محاورہ اس سے لیا گیا ہے کہ جب کل اہل مقدمہ اور ارکان دولت اور لشکر با شوکت حاضر ہو جاتے ہیں اور کچہری گرم ہو جاتی ہے اور ہر ایک حقدار اپنے حق کو عدل شاہی سے مانگتا ہے اور عظمت اور جبروت کے تمام سامان مہیا ہو جاتے ہیں تب بادشاہ سب کے بعد آتا ہے اور تخت عدالت کو اپنے وجود باجود سے زینت بخشتا ہے۔غرض ان آیات سے ثابت ہوا کہ آدم جمعہ کے اخیر حصے میں پیدا کیا گیا کیونکہ روز ششم کے بعد سلسلہ پیدائش کا بند کیا گیا۔وجہ یہ کہ روز ہفتم تخت شاہی پر بیٹھنے کا دن ہے نہ پیدائش کا۔یہودیوں نے ساتویں دن کو آرام کا دن رکھا ہے مگر یہ اُن کی غلط نہی ہے بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ جب انسان ایک عظیم کام