تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 100
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة المؤمن زردشت نبی تھا یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا : ) ہم تو یہی کہیں گے کہ امنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِہ خدا کے کل رسولوں پر ہمارا ایمان ہے مگر اللہ کریم نے ان سب کے نام اور حالات سے ہمیں آگاہی نہیں دی جیسے فرمایا وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقُصُصُ عَلَيْكَ اتنے کروڑ مخلوقات پیدا ہوتی رہی اور کروڑ ہا لوگ مختلف ممالک میں آبا در ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ خدا نے ان کو یونہی چھوڑ دیا ہو اور کسی نبی کے ذریعہ سے ان پر اتمام حجت نہ کی ہو۔آخر ان میں رسول آتے ہیں رہے ہیں۔ممکن ہے کہ یہ بھی انہیں میں سے ایک رسول ہوں مگر ان کی تعلیم کا صحیح صحیح پتہ اب نہیں لگ سکتا۔کیونکہ زمانہ دراز گزر جانے سے تحریف لفظی اور معنوی کے سبب بعض باتیں کچھ کا کچھ بن گئی ہیں۔حقیقی طور پر محفوظ رہنے کا وعدہ تو صرف قرآن مجید کے لئے ہی ہے مومن کو سوء ظن کی نسبت نیک ظن کی طرف زیادہ جانا چاہئیے قرآن مجید میں وَ اِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نذیر (فاطر : ۲۵) لکھا ہے۔اس لئے ہوسکتا ہے کہ وہ بھی ایک رسول ہوں۔انتقام جلد نمبر ۳۹ مورخه ۱۷۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۵) ہر ایک قوم میں نبی آئے ہیں یہ بات الگ ہے کہ ان کے نام ہمیں معلوم نہ ہوں۔مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصُ عَليك لمبے زمانے گزر جانے کی وجہ سے لوگ ان تعلیمات کو بھول کر کچھ اور کا اور ہی ان کی طرف منسوب کرنے لگ جاتے ہیں۔(الحاکم جلد ۱۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۸ صفحہ ۷ ) سورۃ نور میں بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ سلسلہ محمدیہ موسویہ سلسلہ کا مثیل ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیانی انبیاء کا ذکر قرآن شریف نے نہیں کیا تم نقصص کہہ دیا۔یہاں بھی سلسلہ محمد یہ میں درمیانی خلفاء کا نام نہیں لیا۔جیسے وہاں ابتداء اور انتہا بتائی یہاں بھی یہ بتا دیا کہ ابتداء مثیل موسیٰ سے ہوگی اور انتہاء مثیل عیسی پر۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ صفحه ۶)