تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 99
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة المؤمن جو گزرچکے ہیں عزبات اور تعظیم سے دیکھیں اور بار بار قرآن شریف میں یہی ذکر کیا گیا ہے۔اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ سبق دینا ہے کہ وہ دُنیا کے کسی حصہ کے ایسے نبی کی کسرشان نہ کریں جو ایک کثیر قوم نے اُس کو قبول کر لیا تھا۔یہ اصول نہایت ہی پیارا اور دلکش اصول ہے اور مسلمان اس کے ساتھ جس قدر فخر کریں وہ بجا ہے کیونکہ دوسری قو میں بوجہ اس کے کہ اس اصول کی پابند نہیں دُنیا کے اور انبیاء کی نسبت جو گزرچکے ہیں جن کی قبولیت کروڑ ہا لوگوں میں پھیل چکی ہے ادنی ادنیٰ اختلاف کی وجہ سے زبان درازی کے لئے طیار ہو جاتی ہیں۔خاص کر ہمارے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو گندی گالیاں دیتے ہیں وہ صرف زبان سے تو صلح صلح کرتے ہیں مگر اسی زبان کو تلوار کی طرح کھینچ کر ہمارے اُس پیارے نبی پر چلاتے ہیں جس کے قدموں کے نیچے ہماری جانیں ہیں۔ہم لوگ عجیب مظلوم ہیں کہ ہم تو قرآن شریف کی تعلیم کے موافق دنیا کے ہر ایک نبی کو جو مقبول الا نام گزرے ہیں عزت اور تعظیم کی راہ سے دیکھتے ہیں اور اُن پر ایمان لاتے ہیں مگر ہمارے نبی اور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو کچھ ہمارے مخالف کہتے ہیں اور لکھتے ہیں اُس کو تمام زمانہ جانتا ہے۔ہم اس بات کا اعلان کرنا اور اپنے اس اقرار کو تمام دنیا میں شائع کرنا اپنی ایک سعادت سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام اور دوسرے نبی سب کے سب پاک اور بزرگ اور خدا کے برگزیدہ تھے۔ایسا ہی خدا نے جن بزرگوں کے ذریعہ سے پاک ہدایتیں آریہ ورت میں نازل کیں اور نیز بعد میں آنے والے جو آریوں کے مقدس بزرگ تھے جیسا کہ راجہ رامچندر اور کرشن یہ سب کے سب مقدس لوگ تھے اور ان میں سے تھے جن پر خدا کا فضل ہوتا ہے۔مگر ہم اس شکایت کے لئے کس کے آگے روویں اور کس سے ہم اس بات کا انصاف طلب کریں کہ دوسری قو میں ہم سے یہ معاملہ نہیں کرتیں۔دیکھو یہ کیسی پیاری تعلیم ہے جو دنیا میں صلح کی بنیاد ڈالتی ہے اور تمام قوموں کو ایک قوم کی طرح بنانا چاہتی ہے یعنی یہ کہ دوسری قوموں کے بزرگوں کو عزت سے یاد کرو اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑھ اُن نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑ ہا انسانوں نے قبول کر لیا ہے جو شخص کسی نبی کی تحقیر کرتا ہے یا تحقیر کرنے والے کا دوست اور حامی ہے اور پھر وہ اس قوم سے صلح چاہتا ہے جو اس نبی پر دل وجان سے قربان ہے وہ ایسا مور کچھ اور نادان ہے کہ جہالت اور نادانی میں دنیا میں کوئی اس کی نظیر نہیں ایک شخص جو کسی کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اُس کا بیٹا اس سے خوش ہو یہ کیوں کر ہوسکتا ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۲، ۳۸۳)