تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 98

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۸ سورة المؤمن تو یہی لفظ موت پر دلالت کرے مگر حضرت عیسی کے حق میں اگر آجاوے تو اس میں کچھ ایسی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کے معنے بجائے موت کے جسم عصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہو جاتے ہیں۔احکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ مئی ۱۹۰۸ء صفحه ۶) دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں صاف یہ لفظ ہیں ااِمَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نتو فينك۔پھر حضرت یوسف کے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی توفی کا لفظ وارد ہے اور اس کے معنے بجز موت اور ہر گز نہیں ہیں۔دیکھو تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصّلِحِينَ (یوسف : ۱۰۲)۔یہ حضرت یوسف کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ اے خدا مجھے زندہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھالے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔تَعَالَى اللهُ عَمَّا يَصِفُونَ القام جلد ۱۲ نمبر ۷ ۴ مورخہ ۱۴ / اگست ۱۹۰۸ صفحه ۳) قرآن شریف میں صرف لفظ تو فی ہی کو لے کر اس کو دیکھ لو کہ بھلا کسی مقام پر اس کے معنے بجز موت کے کچھ اور بھی ہیں یا مع جسم عصری کے آسمان پر اٹھائے جانے کے ہیں؟ یہی تو فی کا لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔آیت کریمہ اما نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نتو فينك غور کر کے دیکھ لو۔پھر یہی توفی کا لفظ ہے جو حضرت یوسف کے حق میں وارد ہے۔پھر ہمیں سمجھ نہیں آتا که برخلاف نص قرآنی کے اور تمام انبیاء کے کیوں حضرت عیسیٰ کو یہ خصوصیت دی جاتی ہے۔کتب احادیث میں قریباً تین سو مرتبہ یہی لفظ توفی کا آیا ہے مگر کہیں بھی بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے جانے کے معنے نہیں ہیں۔جہاں دیکھو یہ لفظ موت ہی کے معنوں میں وارد ہوتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۲ مورخه ۱۸ / جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) وَ لَقَد أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصُنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَّمْ دو نَقْصُصْ عَلَيْكَ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ۔جس قدر دنیا میں نبی گزرے ہیں بعض کا اُن میں سے ہم نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا۔اس قول سے مطلب یہ ہے کہ تا مسلمان حسن ظن سے کام لیں اور دُنیا کے ہر ایک حصہ کے نبی کو