تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 95
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۵ سورة المؤمن بنوں اور ہمہ تن اُسی کا اور اُسی کی راہ کا ہو جاؤں۔سو میں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کر دیا ہے اب کچھ بھی میرا نہیں۔جو کچھ میرا ہے وہ سب اُس کا ہے۔آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه (۱۶۵) فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ ، فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فالينا يُرجَعُونَ انصاف کی آنکھ سے دیکھنا چاہیے کہ جس طرح حضرت مسیح کے حق میں اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اِنّى مُتَوَفِّيكَ اني متوفيك فرمایا ہے اس طرح ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے فَاهَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ یعنی دونوں جگہ مسیح کے حق میں اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں توقی کا لفظ موجود ہے پھر کس قدر نا انصافی کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولی کی نسبت جو توفی کا لفظ آیا ہے تو اس جگہ تو ہم وفات کے ہی معنے کریں اور اُسی لفظ کو حضرت عیسی کی نسبت اپنے اصلی اور شائع متعارف معنوں سے پھیر کر اور اُن متفق علیہ معنے سے جو اول سے آخر تک قرآن شریف سے ظاہر ہورہے ہیں انحراف کر کے اپنے دل سے کچھ اور کے اور معنے تراش لیں۔اگر یہ الحاد اور تحریف نہیں تو اور پھر الحاد اور تحریف کس کو کہتے ہیں؟ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۲۷۴) پوری ترقی دین کی کسی نبی کی حین حیات میں نہیں ہوئی بلکہ انبیاء کا یہ کام تھا کہ انہوں نے ترقی کا کسی قدر نمونہ دکھلا دیا اور پھر بعد ان کے ترقیاں ظہور میں آئیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے اور ہر ایک اسود اور احمر کے لئے مبعوث ہوئے تھے مگر آپ کی حیات میں احمر یعنی یورپ کی قوم کو تو اسلام سے کچھ بھی حصہ نہ ملاء ایک بھی مسلمان نہیں ہوا۔اور جو اسود تھے ان میں سے صرف جزیرۂ عرب میں اسلام پھیلا اور مکہ کی فتح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۶۵) یہ مسلمان کہلاتے ہیں موحد کہلاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء اور خیر البشر تسلیم کرتے ہیں۔لیکن جب وہی لفظ توفی کا آپ پر آتا ہے تو اس کے معنی موت کرتے ہیں اور جب مسیح پر آتا ہے تو زندہ مع جسم آسمان پر اٹھائے جاتے ہیں۔اُن کی غیرت کو کیا ہوا ؟ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی پر اٹھ ہتک کیوں روا ر کھتے ہیں؟ کیا قرآن شریف میں نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے